شان مسیح موعود — Page 22
اس کو ترک کر کے دوسرا عقیدہ اختیار فرمایا ہے اور یہ دوسرا عقیدہ جو صفر عیسی علیہ اسلام سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھے کہ ہونے کا اختیار فرمایا ہے یہ نبوت کے عقیدہ میں تبدیلی کی فرع ہے کیونکہ اپنی تمام شان میں حضرت میسیح بن مریم سے بڑھ کر ہونے کے عقیدہ کو آپ نے اپنے آپ کو صریح طور پر نبی کا خطاب یافتہ سمجھ لینے پر اختیار کر نا بیان فرمایا ہے ورنہ ایک غیر تنی ہرگز اپنی تمام شان میں ایک نبی سے افضل ہونے کا دعوے نہیں کر سکتا ہیں ہمارے نزدیک فضیلت کے عقیدہ میں تبدینی نبوت کے عقیدہ میں تبدیلی کی فرع ہے۔پیشتر اس کے کہ میں تفصیلی طور پہ مولوی محمد علی صاحب مرحوم اور شیخ مصری صاحب کے تشریحی نظریوں پر تبصرہ کروں اور اپنا نقطہ نظر تفصیل سے پیش کروں۔میں پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حقیقة الوحی کی زیر بحث عبارت پیش کر دینا چاہتا ہوں تاکہ اُسے سامنے رکھ کر احباب کے لئے یہ فیصلہ کرنے میں آسانی ہو کہ کونسا نظریہ حضرت اقدس کی اس تحریہ کے مطابق ہے اور کون سے نظریئے جادہ اعتدائی سے منحرف ہیں۔زیر محت عبارت زیر بحت عبارت میں حضرت اقدس نے تحقیقہ اوی صفحه به بها تا ۱۵۵ تک ایک سائل کے سوال کا جواب دیا ہے۔سائل کا سوال پہلے حضور مسائل کا سوال یوں نقل فرماتے ہیں۔و تریاق مقلوب کے صفحہ ۱۵۷ میں جو میری کتاب ہے، لکھا ہے اس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گزرے کہ میں نے