شان مسیح موعود — Page 191
191 تو بعض انبیاء ایسے بھی ہوئے ہیں جو پہلے نبی کی شریعت کے ہی تابع تھے اور وہ کوئی جدید شریعت نہیں لائے تھے۔پس شیخ صاحب کا یہ عقیدہ کہ ہر نبی الگ الگ شریعیت لاتا ہے حضرت مسیح موجود عملیات لام کی تقریبات کے خلاف ہے۔پس اگر اس وجہ سے وہ حضرت اقدس کو زمرہ انبیاء میں شمار نہیں کرتے کہ ان کے نزدیک ہر نبی کے لئے الگ الگ شریعت لانا ضرور کیا ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام قرآن مجید کے علاوہ کوئی اور شریعیت نہیں رکھتے تو یہ اُن کی صریح غلطی ہے۔قرآن و حدیث اور مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک ہر نبی کے لئے الگ الگ شریعت کا لانا ضروری امر نہیں شیخ صاحب کو چاہیے کہ وہ اپنے اس عقیدہ پر نظرثانی فرمائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام شیخ مصری صاحب کے ایک مغالطہ نے بدی عقیدہ کا ذکر کرتے ہوئے حقیقۃ الوحی میں " صریح طور پر نبی کا خطاب پایا “ کے ذکر کے بعد تحریہ فرمایا ہے :- نگی اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی" حضور کے اس فقرہ سے شیخ مصری صاحب یہ مغالطہ دینا چاہتے ہیں کہ کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس جگہ اپنے آپ کو ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی قرار دے رہے ہیں لہذا آپ ہر پہلو سے نہیں نہ ہوئے اور نبی تو وہ ہوتا ہے کہ اسے جس پہلو سے بھی دیکھا جائے وہ نبی ہو۔الجواب: - حقیقة الوحی صفحہ ۵۵ پر حضرت اقارس نے ایک پہلو سے نبی