شان مسیح موعود — Page 18
IA موصوف کا نظریہ واقعی قابل اجتناب تھا۔مگر چونکہ خود شیخ مصری صاحب بھی حضرت اقدس کی اس عبارت کو صحیح رنگ میں سمجھ نہیں رہے۔اس لئے انہوں نے اس عبارت کی تشریح کے متعلق ہمارے نظریہ سے کئی اختلاف کیا ہے بلکہ ہمیں اپنا غلط نظریہ منوانے کی کوشش کی ہے حقیقت یہ ہے کہ اس عبارت کی تشریح کے متعلق جس طرح مولوی محمد علی صاحب مرحوم اور شیخ صاحب کے نظریہ میں بعد المشرقین ہے۔اسی طرح اس عبارت کے متعلق مہاری تشریح اور شیخ صاحب کی تشریح میں بھی بعد المشرقین ہے۔اور جناب مولوی محمد علی صاحب کا نظریہ بھی اعتدال پر نہیں تھا اور شیخ صاحب کا نظریہ بھی اعتدال سے ہٹا ہوا ہے۔اور حقیقی اور معقول منطقی تشریح جس سے انسان کو شیخ قلب حاصل ہوتا ہے وہی ہے جسے سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ المسیح الثانی زیادہ اللہ تعالے نے اپنی کتاب حقیقۃ النبوة " میں پیش فرمایا ہے بحضور نے اس کتاب میں حقیقۃ الوحی کی زیر بحت عبارت کے متعلق جناب مولوی محمد علی صاحب کے تشریحی نظریہ کی پچھہ زور تردید کرنے اور اس عبارت کا صحیح مفہوم بیان کرنے کے ساتھ ہی اس نظریہ کی بھی تردید فرما دی؟ ہے۔ہجے سے اب شیخ مصری صاحب اس طرف پیش کرتے ہیں کہ اس عبارات کی تشریح یہ ہے کہ حضرت اقدس غیر بنی ہوتے ہوئے پہلے اپنے آپ کو حضرت عیسی علیہ السلام سے افضل نہیں کہتے تھے لیکن بعد میں یہ عقیدہ ترک کر کے آپ غیر نبی ہوتے ہوئے ہی اپنے آپ کو حضرت عیسے علیہ اسلام سے افضل کہنے لگے۔چونکہ یہ تشریکا حضرت میسج موعود علیہات نام کی اس واضح عبارت کو غلط رنگ دینے کے مترادف ہے