شان مسیح موعود — Page 167
146 گئی ہے مگر اس کے معنے یہ نہیں ہو سکتے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی وج) واقعی دحی نہیں بلکہ محض تشبیہہ کے طور پر مجازی وحی ہے۔شیخ صاحب نے صریح طور پر نبی کہلانے کا مفہوم تشبیہہ بلیغ اور استعارہ کے طور پر نبی کہلانا قرار دیا ہے گویا حضرت اقدس کہ مجازی بنی قرار دیا ہے۔مگر مجازی نبی تو حضرت اقدس اپنے آپ کو صریح طور پر نبی کا خطاب یافتہ سمجھ لینے سے پہلے ہی قرار دیتے رہے ہیں۔پس اگر صریح طور پر نبی کا خطاب پانے کا مفہوم یہ ہوتا کہ آپ مجازی طور پر نبی ہیں تو پھر تو حضرت اقدس کو شروع دکوئی مسیحیت میں ہی اپنے آپ کو صریح طور پر نبی کا خطاب یافتہ قرار دے دینا چاہیے تھا مگر حضرت اقدس نے تو حقیقہ ہوگا کی زیر بحث عبارت میں افضلیت برسیم کے عقیدہ میں تبدیلی کے زمانہ میں اپنے آپ کو صریح طور پر نبی کا خطاب یافتہ سمجھنا قرار دیا ہے اور اس سے پہلے جوئی فضیلت برسیم کے عقیدہ کے وقت اس پہلے عقیدہ کو اختیار کرنے کی یہ وجہ قرار دی ہے کہ مجھے مسیح بن مریم سے کیا نسبت ہے۔وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے" اور اس طرح اس زمانہ میں اپنے آپ کو مجازی نبی سمجھتے ہوئے غیر نبی قرار دیا ہے اور اس کے بعد جمہ کی فضیلت کے عقیدہ میں تبدیلی کو صریح طور پونجی کا خطاب یافتہ سمجھ لینے سے وابستہ قرار دیا ہے۔خود شیخ صاحب نے بھی مان لیا ہے کہ حضرت اقدس کے نبی کہلانے کا فضیلت کے عقیدہ میں منور