شان مسیح موعود

by Other Authors

Page 163 of 240

شان مسیح موعود — Page 163

۱۹۳ اور اپنی <mark>اسلامی</mark> <mark><mark>اصطلاح</mark></mark> میں بھی آپ بنی ہیں۔لہذا آپ صرف معروف <mark>اسلامی</mark> اصطلات کے بالمقابل مجازی بنی قرار پاتے ہیں تاکہ <mark>تشریعی</mark> اور مستقلہ نبوت سے آپ کی نبوت کا القیاس نہ ہو۔اور یہ معروفت <mark><mark>اصطلاح</mark></mark> بجامع تعریف نبوت <mark>نہی</mark>ں۔حضرت اقدس حضرت <mark>مسیح</mark> بن مریم علیہ السلام سے اتم اور اکسل <mark>امر</mark> سوم مشابہت رکھنے کی وجہ سے ہی <mark>مسیح</mark> موعود کی پیشگوئی کے مصداق ہیں۔پس اگر شیخ مصری صاحب کی مثال حضرت اقدس کے معاملہ پر منطبق سمجھی جائے تو حضرت اقدس نی الواقع میسج موعود بھی <mark>نہی</mark>ں رہتے کیونکہ اس صورت میں آپ <mark>مسیح</mark> موعود بھی تشبیہ بلیغ اور استعارہ کے طور پر قرار پاتے ہیں۔اب شیخ مصری صاحب بتائیں کہ وہ حضرت اقدس کو فی الواقع <mark>مسیح</mark> موجود مانتے ہیں یا استعارہ اور تشبیہ بلیغ کے طور پر۔حضرت اقدس تو تحریہ فرماتے ہیں :- جو شخص مجھے فی الواقع <mark>مسیح</mark> موعود اور جہد کا معہود <mark>نہی</mark>ں مانتا وہ میری جماعت میں سے <mark>نہی</mark>ں " (کشتی نوح صفحه ۲۰) اگر شیخ مصری صاحب کے نزدیک حضرت اقدس حضرت عیسی علیہ اسلام سے میسج ہونے میں اتم اور اکمل مشابہت رکھتے ہوئے امت <mark><mark>محمد</mark></mark>یہ کے لئے فی الواقع میسج موجود ہیں تو آپ حضرت عیسی علیہ السلام سے نبوت میں اتم اور امل مشابہت رکھتے ہوئے کیوں فی الواقع <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> <mark>نہی</mark>ں۔هَاتُوا بُرْهَانَكو إِن كُنتُم صَادِقِين۔حضرت اقدس <mark>ازالہ</mark> اوہام صفحہ ۲۶۱ پر تحریمہ فرماتے ہیں :- <mark>امر</mark> چهارم یہ بھا نہ مجازی اور روحانی طور پہ رہتی ہیں موجود ہے