شان مسیح موعود — Page 162
۱۶۲ کو نبوت مطلقہ کے لحاظ سے زمرہ انبیاء کا فر یقین کرنا چاہیے۔جس طرح ہماری صلوات دوعا ئیں ، عبادت مطلقہ کی افراد میں گو اصطلاحی صلوٰۃ وہی کہلاتی ہے جو قیام، رکوع ، سجدہ اور قعدہ پشتمل ہوا اور باوضو ہو کر ادا کی جائے گی نہیں شیخ صاحب اپنے مسلک کے مطابق صلوۃ اور نماز کی مثال تو دے سکتے تھے۔اُن کی پیش کردہ بہادر اور شیر کی مثال حضرت اقدس کی نبوت پر شیخ صاحب کے اپنے مسلک کے لحاظ سے بھی منطبق نہیں ہو سکتی۔حضرت اقدس نے اپنے آپ کو لغوی معنوں میں بنی قرار دینے کے امر دوم ساتھ ، خدا کے حکم میں بھی نبی کہا ہے تم حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۱۸ آخری خط بنام اخبار عام نیز حضور نے اپنے آپ کو خدا کی اصطلاح میں بھی بنی کیا ہے اتنی حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۰ و چشیر معرفت صفحہ ۳۲۵) اور نبیوں کی متفق علیہ تعریف کے لحاظ سے بھی اپنے آپ کو نبی کہا ہے (الوصیت اور قرآنی معنوں میں بھی بینی آیت لا يظهر على غيبه احدا الامن ارتضى من رسول کے مطابق بھی نبی اور رسول کہا ہے (ملاحظہ ہو اشتہار ایک غلطی کا ازالہ و حقیقت ایسی صفحہ ۳۹۱) پھر اپنی اسلامی اصطلاح میں بھی اپنے آپ کو نبی کہا ہے (تقریر حجتہ الله اور ان سب مقامات میں مکالمہ مخاطبہ الہیہ کا کیفیت اور کمیت میں کمال درجہ تک پہنچنا یا خالص غیب پر بکثرت اطلاع دیا جانا مراد ہے۔اور ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۱۳۸ میں بھی نبی کے حقیقی معنی در اصل یہی مراد ہیں۔لہذا لغوی معنوں میں بھی آپ بنی ہیں اور خدا کے حکم اور قرآنی معنوں میں بھی آپ نبی ہیں اور خدا کی اصطلاح میں بھی بنی ہیں اور نبیوں کی متفق علیہ تعریف توت