شان مسیح موعود

by Other Authors

Page 114 of 240

شان مسیح موعود — Page 114

۱۱۴ میں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایسی جزئی فضیلت کے عقیدہ پر جو ایک غیر نبی کو نبی پر بھی ہو سکتی ہے قائم نہ رہنے اور اس کے متناقض یہ عقیہ اختیا کو نا تسلیم فرمایا ہے کہ خدا نے اس امت سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے" لہذا جب حضرت اقدس نے خود ان دونوں عقیدوں میں تناقض تسلیم فرما لیا ہے تو اس کے تو یہ معنی ہوئے کہ پہلے عقیدہ یعنی ایسی جزئی فضیلت کا عقیدہ ہو ایک غیر نبی کو نبی پر بھی ہو سکتی ہے آپ نے بالکل ترک فرما دیا تھا لہذا اس عقیدہ کے ترک کر دینے کے بعد یہ محال ہے کہ حضرت اقدس اس سے اگلے مہینہ میں ہی حضرت عیسی علیہ السلام پر پھر اپنی ایسی ہی جتوئی فضیات قرار دے دیا ہو ایک غیر نبی کو نبی پر بھی ہو سکتی ہے۔پس اگر اپنی تمام ستان میں حضرت عیسی علی دات کام سے بہت بڑھ کر ہونے کو ریونیو مئی نشاہ کی محولہ عبارت میں بقول شیخ مصری صاحب حضرت اقدسی نے حضرت عیسی علیہ السلام پر اپنا تخصیات جزئی ہی قرار دی ہے تو تب دینی عقیدہ کے بعد اس ہوائی فضیلت کا مفاد یہ ہوگا کہ یہ ایسی ہوئی فضیلت نہیں جو ایک غیر دنیا کو نہی پر ہو سکتی ہے بلکہ یہ ایسی ہوئی تحسینت ہے جو عرف ایک نبی ہی کو نبی پر ہو سکتی ہے کیونکہ دونوں عقیدوا، ہمیں میں اقض کا وجود ضروری ہے۔پیس اس صورت میں ہوئی فضیلت کی دو قسمیں باہم متضاد متبائن