شان مسیح موعود — Page 48
۴۸ (اوائل ناقل) سے ہی تھی لیکن حضرت اقدس " حقیقہ الوحی “ میں اس سے انکار فرمارہے ہیں اور لکھ رہے ہیں کہ با وجود امور فضیلت ظاہر ہونے کے بھی حضور یہی سمجھتے رہے کہ حضور کو بھلا مسیح این مریم سے کیا نسبت ہو سکتی ہے " (روح اسلام صفحہ ۳۴۷) پھر آگے شیخ مصری صاحب یہ بیان کرتے ہیں :- جس کے یہ معنی ہوئے کہ مسیح ابن مریم کے مقابلہ میں آپ نبی نہیں بلکہ محض انتی اور ولی ہیں۔اور ولی خواہ کتنی ہی بڑی شان کا مالک ہو جائے اور کتنے ہی بلند مقام قرب الہی تک پہنچ جائے ایک نبی کے مقابلہ پر اس کی وہ شان ہی ہوتی ہے۔اور اس کے قرب کا مقام خواہ کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو نبی کے قرب کے مقام سے وہ بہت نیچا ہی سمجھا جاتا ہے۔اس لئے جب تک کسی شخص کا کسی نبی کے مقابلہ میں امتی اور ولی ہونے کا عقیدہ رہے گا گو وہ کیسا ہی بلند مرتبہ تک پہنچ بھائے وہ یہی کہے گا کہ میری نبی سے کیا نسبت ہے۔اور اس کا یہ کہنا یا الکل سچائی پر مبنی ہو گا۔کیونکہ اس کا یہی عقیدہ اور یہی ایمان ہے" (روح اسلام صفحہ ۲۵) شیخ مصری صاحب کی حضرت اقدس کے الفاظ " مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے ؟ " کی تشریح حضور کے اپنے آپ کو ولی سمجھنے کے زمانہ تک کے لئے دوست ہے اور مجھے اس تشریح سے پورا اتفاق ہے کیونکہ امتی اور ولی واقعی نبی سے اپنی نبوت میں نسبت قرار نہیں دے سکتا۔کیونکہ غیر نبی