شان مسیح موعود — Page 40
م کے بعد ، اسال کے لمبے عرصہ تک اس پہلے عقیدہ پرت نم رہے کہ ایک ولی ایک نبی سے فضل نہیں کہلا سکتا اور پھر یہ الہام نازل ہونے پر کہ " مسیح محمدی میسج موسوی سے افضل ہے “ رکشتی نوح مطبوعہ شاہ صفحہ ۱۶ ) آپ نے اپنے اس پہلے عقیدہ میں تبدیلی کر لی اور یہ قرار دے دیا کہ میں ولی ہو کو ہی حضرت عیسی علیہ السلام سے جو نبی ہیں، فضل کہلا سکتا ہوں گو میری فضیلت پھر بھی جودی ہی ہے جو ایک غیر نبی یعنی ولی کو نبی پر ہو سکتی ہے۔شیخ مصری صاحب کے نزدیک حضور کا پہلا عقیدہ مسلمانوں کے اس رسمی اور مروجہ عقیدہ کی بناء پر تھا کہ ایک ولی نبی سے افضل نہیں کہلا سکتا۔اور دوسرا عقیدہ آپ نے کشتی نوح والے الہام کی بناء پر اختیار کیا اور مسلمانوں کے مروجہ اور رسمی عقیدہ کو کہ ایک ولی نبی سے افضل نہیں کہلا سکتا ، ترک کر دیا۔اس نظریہ کی غلطی پر میں آگے پھل کو روشنی ڈالوں گا۔اب پہلے میں مولوی محمد علی صاحب کے اوائل " کے لفظ کی تشریح کی خاصی بیان کر دینا چاہتا ہوں۔مولوی محمد علی صاحب کی اوائل عما مولوی محمد علی صاحب کا " اوائل " کے لفظ کے متعلق یہ نظریہ کہ اوائل کے انتظام کی تشریح میں خامی سے مراد دعوئی مسیحیت سے پہلے کا زمانہ ہی ہو سکتا ہے جبکہ آپ حضرت مسیح سے اپنی کوئی نسبت نہ سمجھتے تھے بالکل غلط نظریہ ہے۔کیونکہ ان کے اس خیال پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حضرت اقدس نے حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام پر اپنی جزوی فضیلت کا عقیدہ ہو غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے دعوئی مسیحیت پر تبدیل کر لیا تھا۔اور