شان مسیح موعود — Page 23
اس تقریر میں اپنے نفس کو حضرت مسیح پر فضیلت دی ہے کیونکہ یہ ایک جوئی فضیلت ہے جو غیر نبی کو نبی پر بھی ہو سکتی ہے۔اور پھر ریویو جلد ا قول نمبر به صفحه ۷ ۲۵ میں مذکور ہے کہ تعدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔پھر ریو یو صفحہ ۵ ہم میں لکھا ہے مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرسے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جوئیں کر سکتا ہوں وہ ہر گتہ نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز نہ دکھنا سکتا۔خلاصہ اعتراض یہ کہ دو تو عبادتوں میں تناقض ہے" (حقیقة الوحی صفحه ۱۴۷۸) یہ سوال نقل کرنے کے بعد حضرت اقدس اس کے جواب میں تحریہ فرماتے ہیں :۔" یاد رہے کہ اس بات کو اللہ تعالے خوب جانتا ہے الجواب کہ مجھے ان باتوں سے نہ کوئی خوشی ہے نہ کچھ عرض کہ نہ یں مسیح موعود کہلاؤں یا مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں بہتر ٹھہراؤں۔تعدا نے میرے تعمیر کی اپنی اس پاک وحی میں آپ ہی تیروی ہے جیسا کہ فرماتا ہے۔قل اجرد نفسى من ضروب الخطاب۔یعنی ان کو کہ دے میرا تو یہ حال ہے کہ میں کسی خطاب کو اپنے لئے نہیں چاہتا۔یعنی میرا مقصد اور میری مراد ان خیالات سے برتر ہے اور کوئی خطاب دینا یہ تعدا کا فعل ہے۔میرا اس میں دخل نہیں ہے۔رہی یہ بات کہ ایسا کیوں لکھا