شان مسیح موعود

by Other Authors

Page 166 of 240

شان مسیح موعود — Page 166

144 ہو شبہ یہ حقیقت سے مشابہت رکھنے کے باوجود ہمیشہ استعارہ اور مجاز نہیں بن جاتی۔بلکہ اس تشہیر کا مقصد کبھی یہ ہوتا ہے کہ مشبہر حقیقت کو ایک پہلی معروف حقیقت سے تشبیہ دے کو بذریعہ تشبیہ قریب الفهم بتا دیا جائے جیسے کہ ایک عالم کو دوسرے معروف عالم سے تشبیہ دی جانے کی یہی غرض ہو سکتی ہے کہ مشتبہ کی علمی شان کو مشتبہ یہ عالم سے تشبیہ دے کر اچھی طرح سے قریب الہم کر دیا جائے تو یہ کہ اس تشبیہہ سے مشتبہ عالم صرف مجازی عالم کیا جاتا ہے فی الحقیقت عالم نہیں رہتا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود که ترجیح طور پر نبی کا خطاب پا کر حضرت جیسے علیہ السلام سے ہو جب الہام میسج محمدی میسج موسوی سے افضل ہے“ افضل ہیں۔لہذا آپ کو حضرت جیسے علما اسلام سے اُن کا مثیل ہو کر تشبیہہ دیا علیہ جانا آپ کو تشبیہہ بلیغ اور استعارہ کے طور پر نبی نہیں بنا دیتا۔ہاں تشبیہہ بلیغ اور استعارہ کے طور پر آپ صرف عیسی ابن مریم یا ابن مریم قرار دیئے بھا سکتے ہیں جیسے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم موسے علی ارت سلام سے مانات مامہ کی وجہ سے تشبیہ بلیغ اور استعارہ کے طور پر تو مونتے ہیں۔اور رسول اللہ آپ فی الواقع ہیں۔نیز قرآن مجید میں وارد ہے۔انا افينا اليك كَمَا اَوْحَيْنَا إِلَى نُوْمِ وَالنَّبِيِّينَ مِنْ بعد به رسوره نسار ۴ ۲۲ آیت ۱۷۴) کہ ہم نے اسے نبی تیری طرف وحی کی میں طرح ہم نے نوح اور اس کے بعد نبیوں پر وحی کی۔اس آیت میں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی وحی کو نوح اور اس کے بعد کی وحی سے تشبیہ دی