شانِ خاتم الانبیأ ﷺ — Page 7
ہرگز نہیں ! مجھے امید ہے کہ اللّہ تعالی انہی میں سے وہ لوگ پیدا کر دے گا جو خدائے واحد کے پیچھے پرستار ہوں گے۔ردیا چه تفسیر القرآن ۱۹ ۱۹۶ ، سیرت خاتم النبیین حصہ اول ۲۳۵-۲۳۰) آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس زیر دست یقین اور توکل کے پیچھے دراصل وہ آسمانی بشار میں جلوہ گر تھیں جو رب العالمین کی طرف سے آپ کو منصب رسالت پر فائز ہونے کے بعد وقتاً فوق دی گئی اور بتایا گیا کہ حالات بالآخر ایسے رنگ میں پیٹ کھائیں گے کہ اسلام کی اشاعت اور اس کے ہم گیر غلبہ کا خدائی منصوبہ بہرحال کامیاب ہو کر رہے گا۔اور حق وصداقت کی آواز کو دبانے کے سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔مثلاً ان پر آشوب اور پر فتن ایام میں جبکہ حضور پیر اورحضور کے مخلص صحابہ پر انسانیت سوز اور شرمناک مظالم ڈھائے جارہے تھے اور حکومت کا کوئی واہمہ بھی ان کے ذہن میں نہیں تھا اور نہ مکہ والوں کے خواب وخیال میں بھی یہ بات آسکتی تھی کہ مظلوم اور نہتے مسلمان بادشاہ بن جائیں گے، اللہ تعالے نے سورۃ القمرمیں یہ حیرت انگیز خبردی کہ عنقریب اسلامی حکومت قائم ہوگی اور عرب کے تمام قبائل اسلام کے اثرات صفحہ ہستی سے بنا دینے کے لئے اس پر حملہ کر دیں گے۔مگر شکست فاش کھائیں گے۔چنانچہ فرمایا :- وَلَقَدْ جَاءَ الفِرْعَوْنَ النُّذُرُ كَذَّبُوا بِأَيْتِنَا كُلَّهَا فَاخَذْ نُهُمْ اخَذَ عَزِيرٍ مُّقْتَدِرٍ النَّارُكُمْ خَيْرٌ مِنْ أُولَيْكُمْ أَمْ لَكُمْ بَراوَة فِي الزَّبُرِ أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَيْةَ مُنتَصِرُه سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَه (القمراية : ۲۲ - ۴۶ ) (ترجمہ :۔اور آل فرعون کے پاس بھی نبی آتے تھے۔مگر آل فرعون نے ہماری سب آیتوں کو جھٹلایا جس پر ہم نے اُن کو ایک غالب طاقتور کی طرح عذاب سے پکڑ لیا۔