شانِ خاتم الانبیأ ﷺ

by Other Authors

Page 6 of 17

شانِ خاتم الانبیأ ﷺ — Page 6

آئیں۔ایک دوسرے موقعہ پر سجدہ کے دوران پشت مبارک پر اونٹ کی اوجھری ڈال دی گئی شہنشاہ دو عالم بازار سے گزرتے تو اوباش آواز سے کستے۔ایک شہر میر نے ایک دفعہ حضور پر خاک ڈالی بحصور اسی حالت میں گھر پہنچے۔آپ کی ایک صاحبزادی نے دیکھا تو زار و قطار رونے لگیں یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو تسلی دی اور فرمایا بیٹی ! آہ وبکا نہ کرو اللہ تعالی تمہارے باپ کی خود حفاظت کریگا۔تاریخ میں ہے کہ آنحضرت صفا پہاڑی پر بیٹھے تھے کہ ابوجہل نے آپ کی شان اقدس میں گستاخی کرتے ہو سے گالیاں دیں۔حضور اُس کی مغلظات سُنتے رہے اور خاموشی سے اٹھ کر واپس گھر تشریف لے آتے۔جوں جوں کا فروں کی آتش انتقام تیز اور وسیع ہو گئی آنحضور کے جذبہ بلی میں ہی حیرت انگیز طور پر اضافہ ہوتا چلا گیا۔بالآخر قریش مکہ کے ایک وفد نے حضرت ابوطالب سے شدید احتجاج کیا۔لیکن جب اس کا بھی کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا تو اس واقعہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو شعب ابی طالب کی گھائی میں اڑھائی تین سال تک ظالمانہ طور پر نظر بند کر دیا گیا۔اسی زمانہ میں آپ نے حج کے موقعہ پر آنے والے قبائل سے ملاقاتیں کیں نیز عکاظ کے مشہور قومی میلہ میں تشریف لے گئے۔اور بیرونی عربوں کی فرودگاہوں پر جا جا کر دعوت اسلام دی۔ازاں بعد تب محاصرہ اٹھ گیا تو حضور نے طائف کے رؤساء پر اتمام حجت کرنے کے لئے چالیسں میں کا طویل سفر اختیار کیا۔مگر ان بد بختوں نے گنتے اپنے ساتھ لئے۔شہر کے اوباش لڑکوں کی جھولیوں میں پتھر ڈال کر آپ کے پیچھے لگا دیا۔جنہوں نے آپ پر نہایت بیدردی سے پتھر برسانے شروع کر دیتے جس سے آپ کا سارا بدن ہو لہان ہوگیا اور زمین آپ کے اس مقدس خون سے گویا تر بزرگی جس کا ایک ایک قطرہ پوری کائنات سے زیادہ قیمتی اور بابرکت تھا۔یہ لوگ برابر تین میل تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے اور سنگ باری کرتے رہے۔اس دوران پہاڑوں کا فرشتہ حاضر ہوا کہ مجھے خدا نے بھیجا ہے تا اگر حکم ہو تو میں طائف کے دونوں پہاڑ پیوست کر کے اہل طائف کو صفحہ ہستی سے مٹاڈالوں۔مگر رحمة للعالمین نے جواب دیا :-