شیطان کے چیلے — Page 617
614 کوئی نبی نہیں گذرا کہ جس کی عمر پہلے نبی سے آدھی نہ ہوئی ہو۔“ لیکن الیاس ستار نے اس کو بالکل الٹ اور غلط سمجھ کر یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ”مرزا بشیر الدین محمود احمد کی تحریر کے مطابق ہر نبی کی عمر پچھلے نبی سے آدھی ہوتی ہے۔“ ( پمفلٹ۔کیا احمدی جواب دے سکتے ہیں؟ صفحہ 27) حدیث نبوی اور الیاس ستار کی تحریر میں زمین آسمان کا فرق ہے۔حدیث نبوی یہ بتاتی ہے کہ ہر نبی اپنے سے پہلے نبی کی عمر سے نصف عمر ضرور پاتا ہے ، جبکہ الیاس ستار کی تحریر بتا رہی ہے کہ ہر نبی کی عمر اپنے سے پہلے نبی کی عمر سے آدھی رہتی ہے اس سے زیادہ نہیں ہوتی۔ظاہر ہے کہ اس کی اس بات کی منطق ہی کوئی نہیں۔نہ تاریخ انبیاء اس کی تصدیق کرتی ہے اور نہ ہی عقل اسے تسلیم کر سکتی ہے۔پس زیر بحث حدیث نبوی ایک الہامی سچائی پر مبنی ہے جس پر واقعاتی شہادت مہر تصدیق ثبت کرتی ہے۔اس کو رد کرنے کی کوئی مجال نہیں رکھتا۔کیونکہ حضرت جبرائیل کا اس سال دو دفعہ قرآن کریم دوہرانا اس کی سچائی کی اندرونی شہادت مہیا کرتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ساٹھ سال کی عمر کا پاکر یعنی 120 سال کے نصف سے آگے بڑھ کر رفیق الاعلیٰ کے پاس جانا اسے سچا ثابت کرتا ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام کی 120 سالہ زندگی کی تاریخی شہادتیں اسے سچا ثا بت کرتی ہیں۔اور یہ حقیقت اسے سچا ثابت کرتی ہے کہ ہر نبی نے اپنے سے پہلے نبی کی عمر سے نصف عمر ضرور پائی ہے۔ان میں سے ایک کا بھی استثناء نہیں۔ہے۔نیز وہ امور بھی اس کی سچائی کے ناقابلِ ردّ ثبوت ہیں جن کا ذکر ہم نے گزشتہ سطور میں کیا آج تک کسی محدث یا مفسر نے اس حدیث کی تشریح ضر میں تقسیمیں دے کر نہیں کی ، کیونکہ تقوی کا تقاضہ یہ ہے کہ حدیث نبوی کی تشریح ایسی کرنی چاہئے جو حقیقت افروز ہو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر از دیا دایمان کا بھی موجب ہو۔سخت افسوس ہے کہ الیاس ستار نے حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کو اپنے