شیطان کے چیلے — Page 35
35 پیشگوئی میں مجاز اور استعارہ کا دخل ہے ورنہ نعوذ باللہ دجال کو بعض خدائی صفات اور قدرتوں میں شریک ماننا پڑتا ہے۔(۴) دجال کی تمام کیفیات عملا عیسائی اقوام میں پائی جاتی ہیں۔(۵) دجال کا فتنہ سب سے بڑا فتنہ بتایا گیا ہے۔اور ادھر ہم دیکھتے ہیں کہ مسیحی اقوام کی مادیت اور فلسفہ نے جو فتنہ اس زمانہ میں برپا کیا ہے، ایسا فتنہ دین و ایمان کو نقصان پہنچانے کے لئے نہ پہلے کبھی ہوا اور نہ آئندہ کبھی تصور میں آسکتا ہے۔نیز سورہ الفاتحہ سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ سب سے بڑا فتنہ عیسائیت کا فتنہ ہے۔کسی قوم پر اقتصادی و معاشی پابندیاں لگانا اور ان کے مادی وسائل پر قابض ہونا اور اس کے برعکس اپنی اغراض کی تکمیل کے لئے از راہ ظلم جارحیت پسند قوموں کی ہر ممکنہ مددکرنا اور ان کے ظالمانہ اقدامات کی تائید کرنا، دجال کی خاص علامات میں سے ہیں جو فی زمانہ عیسائی اقوام کے ایک خاص کردار کے طور پر ظاہر ہوئی ہیں۔اسی طرح ان اقوام کی سیاسی جارحیت، عسکری بربریت ، اخلاق سوزی اور اشاعتِ فحشاء کے ذرائع ان کے دجل اور ان کی دجالیت کی کھلی کھلی داستانیں ہیں جو آنحضرت ﷺ کی بیان فرمودہ پیشگوئی کی صداقت کا اظہر من الشمس ثبوت ہیں۔(1) حضرت تمیم داری نے (بحالت کشف یا رویا ) دجال کو گرجے میں بندھا ہوا د یکھا تھا اور آپ نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں اسے تفصیلاً بیان بھی کیا تھا اور پھر آنحضرت ﷺ نے مسجد میں صحابہ کو جمع کر کے انہیں اس سے آگاہ بھی کیا تھا۔(مسلم کتاب الفتن باب في خروج الدجال۔۔۔) یہ روایت بھی واضح کرتی ہے کہ گرجے سے نکلنے والا کون ہے اور گر جا عیسائیت کی علامت کے طور پر دجال کی حقیقت کی طرف واضح اشارہ ہے۔اس روایت میں دجال کے بندھے ہونے کا منظر بھی دجال کے ایک اور خاص پہلو کو نمایاں کرتا ہے۔جانور کا بندھا ہونا اس کے مالک کی نیز اس پر اس کے تصرف کی نشاندہی کرتا ہے۔اس کا گرجے میں بندھے ہونے میں بتایا گیا ہے کہ دجال مسیحی نظام کے ہاتھ میں آلہ کار ہوگا۔اس منظر میں اس کے فری میسن تنظیموں کے تصرف میں کام کرنے کی حکمت عملی کی پوری پوری نشاندہی کی گئی ہے۔