شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 531 of 670

شیطان کے چیلے — Page 531

527 جن پر نبی اللہ سب سے احسن رنگ میں اور تیز رفتاری سے چلتا ہے۔خدا تعالیٰ نے اسی سبک رفتاری کے ساتھ چلنے کی تلقین کی اور فرمایا۔فَفِرُّوا إِلَى اللهِ (الذاریات:15) کہ خدا تعالیٰ کی طرف دوڑو۔یہ وہ کوچے ہیں جہاں غریب لوگوں کی زمینیں غصب کرنے والے سفاک اور پرلے درجہ کے افاک کا گذر ممکن نہیں ہوتا۔خصوصاً وہ افاک جن پر شیطان نازل ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے نظام کے تحت انہیں تو نچلے آسمان سے پہلے پہلے ہی دھتکار دیا جاتا ہے۔آج ایسے ہی کچھ لوگ کوچۂ تصوف میں گھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور سلوک کی راہوں کی منظر کشی کرنے لگے ہیں۔وو (3) آج تک کوئی نبی دوسرے نبی پر فتن نہیں ہوا!! پیرسیدعبدالحفیظ کی لن ترانیاں دیکھیں۔وہ کہتا ہے یہاں ایک اہم نکتہ یادرکھنے کا یہ ہے کہ یہ تمام منازل سلوک سالک کے لئے ہیں اور نبی ورسول سراج السالکین ہوتا ہے نہ کہ سالک۔نبی یا رسول کو نہ تو فنافی الشیخ ہونے کی ضرورت ہے نہ کوئی نبی آج تک کسی دوسرے نبی یا رسول پر فنا ہوا ہے۔الفتوى 23 جنوری 2000ء) عبدالحفیظ کے اس خود ساختہ معیار کو قران کریم ، احادیث نبویہ اور آئمہ سلف کے اقوال کلیڈ رڈ کرتے ہیں۔مقام فنا، اطاعت و اقتباع کا بلند و بالا مقام ہے۔جہاں تابع ومتبوع ، مطیع و مطاع اور آقا و غلام کی مرضی ایک ہو جاتی ہے۔یہ مقام انبیاء کو کامل طور پر حاصل ہوتا ہے۔خصوصا غیر تشریعی نبی اپنے تشریعی نبی کی اطاعت میں کمال درجہ کی فنا کا مقام رکھتے تھے۔آیات وَإِنَّ مِنْ شِيْعَتِهِ لَإِبْرَاهِيمُ ترجمہ: اور اسی ( نوح ) کی جماعت میں سے ابراہیم بھی تھے۔اور يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّوْنَ الَّذِيْنَ أَسْلَمُوْا ترجمہ:۔اس (تورات) کے ذریعہ سے انبیاء جو فرمانبردار تھے فیصلے کیا کرتے تھے۔(الصافات: 84) (المائدہ:45)