شیطان کے چیلے — Page 459
455 لفظ پر ہے جس کے اعداد 1268 بنتے ہیں۔اور آخر میں کتاب " النجم الثاقب اهتد ا لمن يدعی الدین الواصب“ جو 1310ھ میں طبع ہوئی۔کے مصنف کو چیلنج کریں جو آپ کے علی الرغم حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی حسب ذیل روایت درج کرتے ہیں جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا: گا۔"اذا مضت الف ومائتان واربعون سنة يبعث الله المهدى “ النجم الثاقب صفحہ 209 مطبع احمدی۔پٹنہ ) کہ جب ایک ہزار دو سو چالیس سال گزر جائیں گے تو اللہ تعالیٰ مہدی علیہ السلام کو ظاہر فرمائے پس تم چیلنج کرو گے تو کس کو ؟ صحابہ رضوان اللہ علیہم کو، کہ جنہوں نے آنے والے کے وقت کے بارہ میں احادیث بیان کیں؟ یا امت کے ان مسلّمہ بزرگوں کو جنہوں نے خدا تعالیٰ سے علم پا کر ظہور مہدی کے وقت کے تعین کے لئے امت کی راہنمائی فرمائی۔اس حیرت انگیز حقیقت کو تو دیکھو کہ وقت کے تعین میں، ان میں سے کوئی بھی چودھویں صدی سے آگے نہیں گیا۔تم ان کی بات مانو یا نہ مانو۔ان کو چیلنج کرو یا اپنا سر پیٹو۔یہ قطعی بات یا درکھو کہ اب آسمان سے کوئی نہیں آئے گا کیونکہ یارو جو مرد آنے کو تھا وہ تو آچکا راز تم کو شمس و قمر بھی بتا چکا ہم نے تو اس کے وقت کی تعیین اس کی آمد سے کی ہے۔جس کو خدا تعالیٰ نے اپنی فعلی شہادتوں کے ساتھ ثابت فرمایا تھا۔جہاں تک کسی واضح حدیث میں وقت کے تعین کا تعلق ہے وہ ایمان نصیب لوگوں کو تو الله بڑی وضاحت کے ساتھ اور جلی حروف میں اسی طرح نظر آتی ہیں جس طرح آنحضرت ﷺ کی آمد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کو واضح طور پر نظر آگئی تھی۔مگر وہ لوگ جو انکار کی حجتوں پر قائم ہو جاتے ہیں ان کو گہنایا ہوا چاند تو کجا چودھویں کا چاند بھی نظر نہیں آتا۔جس طرح کفار مکہ انشقاق قمر کا نشان دیکھ کر بھی انکار کر گئے تھے۔ایمان نہ لانے والوں کا تکبر اور بد نصیبی یہ ہے کہ اِنْ يَّرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّه وَكَذَّبُوْا وَاتَّبَعُوْا أَهْوَاءَ هُمْ (القر43) یعنی اگر وہ کوئی نشان دیکھیں تو منہ پھیر لیتے