شیطان کے چیلے — Page 414
412 (1) غالب خدا تعالیٰ ہے، انگریز نہیں راشد علی نے اپنی ” بے لگام کتاب“ میں ” متوازی امت“ کا عنوان لگا کر یہ لکھا ہے کہ سچ کہا مرزا صاحب نے کہ انگریز سرکار کے اس ” خود کاشتہ پودے“ نے امتِ مسلمہ میں نفاق کا بیج بو کر وہ خدمات انجام دیں جو تاریخ میں بے نظیر ہیں۔مرزا صاحب کے ذریعے انگریزوں نے وہ کام کیا جس کی مثال اسلامی تاریخ میں نہیں ہے۔وہ امت مسلمہ کے متوازی خطوط پر مسلمانوں میں سے ہی ایک ایسی امت پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے جس نے اسلام کے ہر شعار کو ہر بنیادی عقیدے کو اپنی سازش کا نشانہ بنایا اور ہر سطح پر قادیانی امت نے ملت اسلامیہ کے حقوق پر نہایت ڈھٹائی سے ڈاکہ ڈالا ہے۔مثلاً “ (اس کے آگے راشد علی نے مختلف دعوے اور اعتراض کئے ہیں جن کے جواب نمبر وار اگلے صفحات پر ملاحظہ فرمائیں) 66 1 راشد علی کی یہ تحریر اس کی شکست و نامرادی کی منہ بولتی تصویر ہے۔اس کی اس تحریر کا عملی اور قطعی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جیسے وہ یہ اقرار کر رہا ہے کہ حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ علیہ السلام کو انگریز نے بطور نبی کے کھڑا کیا۔اگر وہ ان کی پشت پناہی نہ کرتا تو آپ ( نعوذ باللہ ) اپنے افتراء میں کامیاب نہ ہوتے۔انگریز کے سامنے امتِ مسلمہ بیچاری بے بس ہو گئی اور خدا تعالیٰ بھی (نعوذ باللہ ) انگریز کے مقابل پر اپنا کوئی قانون جاری نہ کر سکا۔حالانکہ اس نے خود فرمایا تھا: لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللَّهِ كَذِباً فَيُسْحِتَكُمْ بِعَذَابِ وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَى - (2 :62 ) ترجمہ: اللہ پر جھوٹ نہ باندھو۔ایسا نہ ہو کہ وہ تم کو عذاب کے ذریعہ سے پیس ڈالے اور جو کوئی خدا پر افتراء کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہو جاتا ہے۔کیا اپنے اس قول کے علی الرغم خدا تعالیٰ ( نعوذ باللہ ) اس بہت بڑے مفتری کو عذاب سے پیس نہ سکا۔کیونکہ انگریز نے اسے کھڑا کیا تھا؟ پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّا لَتَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا (المؤمن :52)