شیطان کے چیلے — Page 334
332۔اور پادری فتح مسیح کو جس نے آنحضرت ﷺ کے متعلق حد درجہ نا پاک اتہام لگائے تھے مخاطب کر کے فرماتے ہیں: ہم کسی عدالت کی طرف رجوع نہیں کرتے اور نہ کریں گے۔مگر آئندہ کے لئے سمجھاتے ہیں کہ ایسی ناپاک باتوں سے باز آ جاؤ اور خدا سے ڈرو جس کی طرف پھرنا ہے۔اور حضرت مسیح کو بھی گالیاں مت دو۔یقیناً جو کچھ تم جناب مقدس نبوی کی نسبت برا کہو گے وہی تمہارے فرضی مسیح کو کہا جائے گا۔مگر ہم اس بچے مسیح کو مقدس اور بزرگ اور پاک جانتے اور مانتے ہیں جس نے نہ خدائی کا دعویٰ کیا نہ بیٹا ہونے کا اور جناب محمد مصطفی احمد مجتبی علیہ کے آنے کی خبر دی اور ان پر ایمان لایا۔فرمایا: -V نور القرآن نمبر 2۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ ۵۹۳) " حضرت مسیح کے حق میں کوئی بے ادبی کا کلمہ میرے منہ سے نہیں نکلا یہ سب مخالفوں کا افتراء ہے۔ہاں چونکہ در حقیقت کوئی ایسا یسوع مسیح نہیں گذرا جس نے خدائی کا دعوی کیا ہو اور آنے والے نبی خاتم الانبیاء کو جھوٹا قرار دیا ہو اور حضرت موسی کو ڈا کو کہا ہو۔اس لئے میں نے فرض محال کے طور پر اس کی نسبت ضرور بیان کیا ہے کہ ایسا مسیح جس کے یہ کلمات ہوں راستباز نہیں ٹھہر سکتا۔لیکن ہمارا مسیح ابن مریم جو اپنے تئیں بندہ اور رسول کہلاتا ہے اور خاتم الانبیاء کا مصدق ہے اس پر ہم ایمان لاتے ہیں۔“ ان تحریروں سے حسب ذیل امور بڑی وضاحت کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔پادریوں کی طرف سے آنحضرت ﷺ پر مسلسل چالیس سال تک نا پاک حملے کئے گئے ، گالیاں ا۔تریاق القلوب روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 305 حاشیہ ) دی گئیں۔حتی کہ زنا کی تہمت لگائی گئی اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الزامی رنگ میں کارروائی کی۔آپ نے جو کچھ لکھا وہ پادریوں کے یسوع کی بابت لکھا۔تھا۔آپ نے جو کچھ لکھا اس یسوع یا مسیح کے متعلق لکھا جس کی قرآن کریم نے کوئی خبر نہیں دی کہ وہ کون