شیطان کے چیلے — Page 318
317 ، اسلامی لٹریچر کا قصور نہیں ہے۔لیکن بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔اسلامی لٹریچر میں تو بروز سے آگے بڑھ کرد عین کی اصطلاح بھی موجود ہے۔اور ایسے بزرگ موجود ہیں جن کے متعلق ان سے عقیدت رکھنے۔والوں نے عین محمد " کے لفظ لکھے ہیں۔ان پر یہ لوگ کیوں اپنی قلم کا زہر نہیں اگلتے ؟ دیکھئے حضرت بایزید کے متعلق لکھا ہے کہ حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ چونکہ قطب زمانہ تھے۔اس لئے آپ عین رسول علیہ السلام تھے۔چنانچہ بحر العلوم مولوی عبدالعلی مثنوی مولا نا روم کے شعر، گفت زین سو ہوئے یار میر سد کاندریں در شهر یارے میر کی شرح میں فرماتے ہیں : آن سرور صلعم و عین آن سرور بود 66 ابو یزید قدس سره قطب الاقطاب بود و قطب نمی باشد مگر بر قلب آن سرور صلعم پس بایزید قلب ( شرح مثنوی دفتر چهارم صفحہ 51) ترجمہ :۔حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ چونکہ قطب زمانہ تھے اس لئے آپ عین رسول علیہ السلام تھے۔کیونکہ قطب وہی ہوتا ہے جو محد مصطفی ﷺ کے دل پر رہتا ہو۔اور جو بھی کسی کے دل پر ہو وہ اس کا عین ہوتا ہے۔اور حضرت بایزید بسطامی عین رسول اللہ علے تھے۔حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں: ’ کا تب الحروف نے حضرت والد ماجد کی روح کو آنحضرت ﷺ کی روح مبارک کے سائے (ضمن) میں لینے کی کیفیت کے بارے میں دریافت کیا تو فرمانے لگے یوں محسوس ہوتا تھا۔گویا میرا وجود آنحضرت ﷺ کے وجود سے مل کر ایک ہو گیا ہے۔خارج میں میرے وجود کی کوئی الگ حیثیت نہیں تھی۔(انفاس العارفین۔اردو۔صفحہ 103۔از حضرت شاہ ولی اللہ ترجمہ سید محمد فاروق القادری ایم اے ناشر المعارف گنج بخش روڈ لا ہور ) ضمناً ہم ان پیر ومرید کو بتاتے چلیں کہ سائے کو ہی عربی زبان میں ظل، کہتے ہیں۔پھر فرماتے ہیں کہ میرے چا شیخ ابوالرضا محمد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وو حضرت پیغمبر ﷺ کو میں نے خواب میں دیکھا جیسے مجھے اپنی ذات مبارک کے ساتھ اس انداز سے قرب واتصال بخشا کہ جیسے ہم متحد الوجود ہو گئے ہیں اور اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ کا عین پایا