شیطان کے چیلے — Page 314
313 اب بھی یہ دعوی کرنے کی جرات کریں گے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی معنوی اور تمثیلی بعثت کا دنیا میں کوئی مسلمان قائل نہیں؟ کیا محمد رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر بھی اور کوئی گواہی ہوگی ؟ اس وضاحت کے بعد اب دیکھنا یہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے جب محمد “ کا لفظ بروزی اور ظلمی طور پر اپنے پر چسپاں کیا۔تو کن معنوں میں استعمال کیا ؟ عقلاً ان اصطلاحوں کے تین ہی معنے ممکن ہیں۔اول یہ کہ حضرت مرزا صاحب نے اپنے آپ کو یہ اصطلاح استعمال کر کے حضرت محمد رسول اللہ کا ہم مرتبہ ظاہر کیا ( نعوذ باللہ ) اور یہ بتایا کہ میں آپ کے درجہ کے برابر ہوں اگر چہ محمد رسول اللہ نہیں ہوں۔پس ہم مرتبہ ہونے کی وجہ سے نام محمد دیا گیا۔دوسرا یہ معنی قرار دیا جا سکتا ہے کہ (نعوذ باللہ ) دنیا میں ایک محمد ” نہیں بلکہ دو محمد ہیں۔یعنی ایک عرب میں پیدا ہوا تھا۔اور ایک ہندوستان قادیان میں۔اور اس طرح ہم مرتبہ ہونے کا ہی دعویٰ نہیں بلکہ کلی علیحدہ محمد ہونے کا دعویٰ کر دیا۔تیسرا یہ معنی ہو سکتا ہے کہ ان معنوں میں اسم محمد کا اپنے اوپر اطلاق کیا جن معنوں میں اللہ کے لفظ کا حضرت محمد مصطفی ﷺ کے اوپر اطلاق کیا گیا جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا۔وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَمی (الانتقال :18) یعنی اے محمد جب تو نے مٹھی بھر کنکریاں کفار کی طرف پھینکیں تو تو نے نہیں بلکہ اللہ نے پھینکیں اور پھر فرمایا کہ إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِم (الفتح: 11) کہ یہ لوگ جو تیری بیعت کر رہے ہیں ان کے ہاتھوں کے اوپر اللہ کا ہاتھ ہے۔(وہ ہاتھ جو ان کے ہاتھوں پر تھا یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ اللہ کا ہاتھ تھا ) ظاہر ہے کہ ان دونوں مواقع پر خدا تعالیٰ ہرگز یہ بیان نہیں فرما تا کہ نعوذ باللہ ، رسول اللہ ﷺ ، اللہ تعالیٰ کے ہم مرتبہ ہیں ، نہ ہی یہ دعوی فرمایا صلى الله ہے کہ دو خدا ہیں۔ایک وہ جو مکہ میں ظاہر ہوا اور ایک وہ اللہ جو زمین و آسمان میں ہر جگہ ہے۔اگر کوئی شخص ان آیات کا یہ مطلب نکالے تو یقیناً مفسد اور شیطان ہوگا۔اور اسی طرح جو شخص کلام اللہ کو اس کے محل سے الگ کر کے نہایت خبیثانہ معنے اس کی طرف منسوب کرے تو اُس کا یہ فعل انتہائی مفسدانہ اور شیطانی فعل کہلائے گا۔پس اگر آریوں ، عیسائیوں یا بہائیوں میں سے کوئی قرآن کریم پر اس قسم کا بے با کا نہ حملہ کرے تو یقینا اس کی جسارت نہایت مکر وہ اور مردود ہوگی۔