شیطان کے چیلے — Page 259
258 نصیبوں کا کیا قصور ہے جو اس موعودہ انعام سے فیض یافتہ ہیں۔لیکن اس کے بعد بھی اصل سوال یہ باقی رہے گا کہ جس شخص کے دل پر ایسی آیات قرآنیہ الہام ہوئی ہوں وہ آنحضور ﷺ کی نسبت سے خود اپنی نظر میں اپنا کیا مقام سمجھتا ہے اور کیا مرتبہ تصورکرتا ہے۔اگر وہ یہ اعلان کرے کہ میں محمد ﷺ کا ثانی بن کر پیدا ہوا ہوں (نعوذ باللہ ) اور پرانے محمد رسول اللہ کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔اور اب نیا محمد دنیا میں پیدا ہو چکا ہے تو اس کا یہ اعلان کفر صریح پر مشتمل ہوگا۔لیکن ایسے الہامات کے باوجود اگر ایسا شخص آنحضرت ﷺ کے مقابل پر بے انتہاء انکسار اور خاکساری سے کام لیتار ہے اور کامل یقین رکھتا ہو اور اسی کا برملا اظہار کرتا ہو کہ جو فیض بھی اس کو عطا ہوا ہے، محمد رسول اللہ علیہ کے صدقے عطا ہوا ہے اور آپ کی محبت کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ اس پر مہربان ہے۔نیز قیامت تک کوئی شخص پاک محمد مصطفی ﷺ کے وسیلہ کے بغیر کوئی فیض کسی سے پانہیں سکتا۔اور امت محمدیہ میں جو بکثرت فیض رساں وجود نظر آتے ہیں وہ اپنا نہیں بلکہ محمد رسول اللہ ﷺ کا فیض بانٹنے والے ہیں جو خود محمد رسول اللہ ﷺ سے فیض یاب ہیں تو ایسے شخص پر اگر راشد علی اور اس کے پیر کی اوقات کا انسان بڑھ چڑھ کر گند بولے اور لعنتیں ڈالے، تو وہ خود اپنے ہاتھوں صرف اور صرف اپنی عاقبت برباد کر رہا ہو گا۔وہ اللہ تعالیٰ کی عطا اور محمد رسول اللہ ﷺ کے فیض کو تو نہیں روک سکتا۔اللہ کرے کہ ان کے ہاتھوں سے عاقبت کی بربادی ان کے اپنے تک ہی محدودر ہے اور دوسرے بندگانِ خدا اس سے محفوظ رہیں۔دیکھئے حضرت مرزا صاحب کے جس الہام پر اعتراض کرتے ہوئے راشد علی اور اس کا پیرا اپنی دانست میں یہ ثابت کر رہے ہیں کہ گویا آپ نے (نعوذ باللہ ) حضرت محمد مصطفی ﷺ سے رقابت کی ہے اور جس کے بعد ہر فیضان، محمد مصطفی ﷺ کی بجائے انہوں نے اپنی ذات سے جاری کرنے کا دعویٰ کر دیا ہے۔وہ خود حضرت محمد مصطفی ﷺ کے مقابل پر اپنی حیثیت کیا بیان کرتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں: وہ پیشوا ہمارا جس ہے نور سارا نام اس کا ہے محمد دلبر مرا یہی ہے اس نور فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں پر وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے