شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 71 of 670

شیطان کے چیلے — Page 71

71 کے ساتھ مل کر اپنی اصلی حیثیت کھو دیتی ہے اور نشہ آور نہیں رہتی۔چنانچہ وہ ایلو پیتھک دوائیوں میں اکثر استعمال ہوتی ہے۔اور شریعت کے مطابق ایلو پیتھک ادویہ کو منع نہیں سمجھا گیا۔پس اپنے خود ساختہ اصول کے مطابق جو اعتراض راشد علی نے افیون پر اٹھایا ہے وہی ایلو پیتھک ادویہ پر زیادہ زور کے ساتھ اٹھتا ہے۔را شد علی خود بھی تو الکحل ملی ایلو پیتھک ادویہ استعمال کرتا ہے اور کثرت سے لوگوں کو بھی دیتا ہے۔آنحضرت کے ارشاد کے مطابق شراب استعمال کرنے والے اور پیش کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔پس اس کے اپنے مسلمہ قانون کے مطابق بھی اس پر لعنت ہی وارد ہوتی ہے۔جہاں تک اس عبارت کا تعلق ہے جو راشد علی نے پیش کی ہے اس میں یہ فقرہ کہ مرزا صاحب دیگر رئیسوں کی طرح شراب اور افیون کا استعمال کرتے تھے بلکہ افیون کو نصف طب قرار دیتے تھے“ راشد علی اور اس کے پیر کا اپنا اختراع ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ نے ایسا کوئی فقرہ تحریر نہیں فرمایا۔آپ نے اتنا فر مایا ہے کہ ہے۔" حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ بعض اطباء کے نزدیک وہ نصف طب اس فقرہ سے یہ مطلب کس طرح اخذ کر لیا گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود بھی اسے نصف طب سمجھتے تھے۔یعنی بعض اطباء کے نزدیک تو ایسا ہے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بالکل نہیں فرمایا کہ آپ بھی ایسا ہی سمجھتے تھے۔بلکہ اس بیان کو اگر آپ کے دوسرے فرمان کے سامنے رکھا جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ آپ ایسا نہیں سمجھتے تھے یہ صرف بعض اطباء کا خیال ہے۔پس یہ راشد علی کا اختراع ہے اور اس سے بھی بڑھ کر اس نے آخری فقرہ میں افتراء کیا ہے یعنی و, 66 چنانچہ ایک تو ذہنی مریض اور سونے پر سہاگہ ، افیون اور شراب۔۔۔۔پیر ومرید کی یہ جوڑی نہ جانے جھوٹ اور تکلیس کی کون کونسی حدیں پھلانگتی رہے گی اور اپنے اوپر لعنت وارد کرتی رہے گی۔جہاں تک دوا تریاق الہی کا تعلق ہے وہ الہامی نسخہ کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تیار کی تھی۔جس میں افیون بھی استعمال ہوتی تھی۔یہ کوئی ایسا راز نہ تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو