شیطان کے چیلے — Page 583
580 غالب آیا۔اس وجہ سے قیصر روم بھی تو حید پرست عیسائی بن گیا۔پھر چھٹی صدی تک ہر ایک قیصر مؤحد عیسائی ہوتا رہا۔یہ واضح اور غیر مبہم نتائج ہیں جو مذکورہ بالا اقتباس سے براہِ راست اخذ ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس مذکورہ بال تحریر میں نہ یہ لکھا ہوا ہے کہ شرک کی تخم ریزی صرف حضرت عیسی علیہ السلام کے فوت ہونے کے بعد ہی ہوئی اور نہ آپ نے یہ فرمایا ہے کہ جب تک وہ زندہ تھے، عیسائیوں کے کسی گروہ میں بھی تخم ریزی نہیں ہوئی تھی۔الغرض جو ٹیڑھے استدلال الیاس ستار نے کئے ہیں ، وہ درست نہیں ، اور نہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر کا منطوق ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو حضرت عیسی کی ہجرت سے لے کر آپ کے بعد چھٹی صدی تک کے حالات کو بیان فرمایا ہے تاکہ ساری بات کھل جائے۔آپ نے فرمایا کہ حواریوں کے وقت میں ہی شرک کی تخم ریزی ہوگئی تھی۔یعنی جزوی طور پر شرک تو حضرت عیسی علیہ السلام کی غیر حاضری میں ہی یعنی حواریوں کے دور میں ہی شروع ہو گیا تھا۔اسی لیے قرآن مجید نے ” مادمت فيهم فرمایا ہے کیونکہ مقد رتھا کہ زندہ رہتے ہوئے بھی حضرت عیسی علیہ السلام اپنے بعض حواریوں میں موجود نہ رہتے اور آپ کی نگرانی ان سے اٹھ جاتی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو بیان فرمایا ہے وہ ایسی سچائی ہے جو قرآن کریم سے پھوٹتی ہے اور واقعات صحیحہ اس کی تائید کرتے ہیں۔پس حقیقت یہ ہے کہ حواریوں کے زمانہ سے ہی شرک شروع ہو گیا تھا لیکن اصل توحید جو حضرت عیسی علیہ السلام لے کر آئے تھے وہ آپ کی زندگی تک (ارض فلسطین سے آپ کی غیر حاضری کے باوجود) تو لازماً حواریوں کی ایک جماعت میں بدستور قائم رہی بلکہ آپ کی اس موحدانہ تعلیم کی بقا کا سلسلہ عیسائیوں کے غالب فرقہ میں چھٹی صدی تک ممتد بھی رہا۔پھر اس کے بعد عیسائیت کلیہ شرک میں مبتلا ہو کر پولوسی عقائد کا شکار ہوگئی پس تخم ریزی بالکل اور بات ہے اور مکمل طور پر شرک میں مبتلا ہو جانا اور بات۔لہذا حضرت مسیح موعود السلام کی تحریر میں کوئی ابہام نہیں ہے اور کوئی تضاد نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑی وضاحت سے تخم ریزی کی بات کی ہے اور یہ فرمایا ہے ه خرابی شروع ہو گئی تھی، نیز آپ نے عیسائیوں کے توحید پرست فرقہ کے ساتھ اس طبیث فرقہ کی