شیطان کے چیلے — Page 560
لکھتا ہے: 556 (3) قرآن کے پارے ،عبدالحفیظ کی گفتگو سید عبدالحفیظ جو راشد علی کا پیر ہے، اس کی گفتگو کے بارہ میں ان کا ایک مرید غلام رسول غرق قمبرانی دد گفتگو میں عکس ہے قرآن کا جب کیا تحریرہ پارے بن گئے“ (مامان الحفیظ صفحہ 15 شماره 1 نومبر 1998ء) یعنی پیر کی گفتگو جو شریعت کے احکام سے فرار پر مبنی، تلاوت قرآن اور اس پر عمل کی تلقین سے خالی ،سنت رسول کی پیروی کے لئے تحریص سے تہی اور اپنے خود ساختہ اذکار میں ساری ساری رات سر پٹخنے سے بھر پور ، جماعت احمدیہ کے خلاف بے شرم جھوٹ سے پُر اور شیطان کے پیغامات سے لبریز ہے، وہ ان کے نزدیک قرآن کریم کا عکس ہے اور جب وہ اس گفتگو کو ضبط تحریر میں لاتے ہیں تو وہ قرآن کریم کے پارے بن جاتے ہیں۔( انا للہ وانا الیہ راجعون) یہ وہ شخص ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ظلمی نبوت کے بچے نظریہ پر حملے کرتا ہے۔یہاں یہ اپنے جھوٹے رسالوں میں اپنے سگریٹ نوش، غاصب، اور سفاک وافاک پیر کی گفتگو کو( نعوذ باللہ )عکس قرآن یعنی ظلی طور پر قرآن قرار دیتا ہے اور اسے پاروں کی صورت میں پیش کرتا ہے۔لعنۃ اللہ علی الکاذبین پس ان کی اس جسارت سے صاف ثابت ہے کہ یہ لوگ خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کے لئے بھی گمراہی کا سامان مہیا کرنے والے ہیں اور مذکورہ بالا شعر ان کی طرف سے توہین قرآن کا ایک کھلا کھلا مظاہرہ ہے۔گر یہی دیں ہے جو ہے ان کی خصائل سے عیاں میں تو اک کوڑی کو بھی لیتا نہیں ہوں زینہار