شیطان کے چیلے — Page 29
29 حکم جاری کیا تو جنات کو کسی نے ان کے مرنے کا پتہ نہ دیا۔مگر گھن کے کیڑے نے کہ جو سلیمان کے عصا کو کھاتا تھا۔سورۃ سبا الجز و نمبر 22۔اب دیکھو اس جگہ بھی ایک کیڑے کا نام دآتبتہ الارض رکھا گیا۔بس اس سے زیادہ دابتہ الارض کے اصلی معنوں کی دریافت کے لئے اور کیا شہادت ہوگی کہ خود قرآن شریف نے اپنے دوسرے مقام میں دابتہ الارض کے معنے کیٹر ا کیا ہے۔سو قرآن کے برخلاف اس کے معنی کرنا یہی تحریف اور الحاد اور دجل ہے۔(۳) تیسرا قرینہ یہ ہے کہ آیت میں صریح معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے نشانوں کی تکذیب کے وقت میں کوئی امام الوقت موجود ہونا چاہئے کیونکہ وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِم کا فقرہ یہی ہے کہ اتمام حجت کے بعد یہ عذاب ہو اور یہ تو متفق علیہ عقیدہ ہے کہ خروج دابتہ الارض آخری زمانہ میں ہوگا جبکہ مسیح موعود ظاہر ہوگا تاکہ خدا کی حجت دنیا پر پوری کرے۔پس ایک منصف کو یہ بات جلد تر سمجھ آ سکتی ہے کہ جبکہ ایک شخص موجود ہے جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور آسمان اور زمین میں بہت سے نشان اس کے ظاہر ہو چکے ہیں تو اب بلاشبہ دآئبته الارض یہی طاعون ہے جس کا مسیح کے زمانہ میں ظاہر ہوناضروری تھا اور چونکہ یاجوج ماجوج موجود ہے اور مِنْ كُلِّ حَدَب يَنْسِلُونَ کی پیشگوئی تمام دنیا میں پوری ہو رہی ہے اور دجالی فتنے بھی انتہا تک پہنچ گئے ہیں اور پیشگوئی يُشْرَكُنَّ القَلَاصُ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا بھی بخوبی ظاہر ہو چکی ہے۔اور شراب اور زنا اور جھوٹ کی بھی کثرت ہو گئی ہے اور مسلمانوں میں یہودیت کی فطرت بھی جوش مار رہی ہے تو صرف ایک بات باقی تھی جو د آبتہ الارض زمین میں سے نکلے سو وہ بھی نکل آیا۔اس بات پر جھگڑ نا جہالت ہے کہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ فلاں جگہ پھٹے گی اور دابتہ الارض وہاں سے سر نکالے گا پھر تمام دنیا میں چکر مارے گا کیونکہ اکثر پیشگوئیوں پر استعارات کا رنگ غالب ہوتا ہے جب ایک بات کی حقیقت کھل جائے تو ایسے اوہام باطلہ کے ساتھ حقیقت کو چھوڑ نا کمال جہالت ہے اسی عادت سے بد بخت یہودی قبول حق سے محروم رہ نزول مسیح۔روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 415 تا418) گئے۔دقال :۔آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی تھی کہ آخری زمانہ میں جو کہ مسیح موعود کا زمانہ ہے، دجال کا خروج ہو