شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 483 of 670

شیطان کے چیلے — Page 483

479 جانتے ہیں کہ خدا کی دلیل پیش کردہ سے استخفاف کرنا بالاتفاق کفر ہے کیونکہ اس دلیل پر ٹھٹھ مارنا جو خدا نے قرآن اور رسول کی حقیت پر پیش کی ہے مستلزم تکذیب کتاب اللہ ورسول اللہ ہے اور وہ صریح کفر ہے مگر ان لوگوں پر کیا افسوس کیا جائے شاید ان لوگوں کے نزدیک خدا تعالیٰ پر افتراء کرنا جائز ہے اور ایک بدظن کہہ سکتا ہے کہ شاید یہ تمام اصرار حافظ محمد یوسف صاحب کا اور ان کا ہر مجلس میں بار بار یہ کہنا کہ ایک انسان تئیس برس تک خدا تعالیٰ پر افترا کر کے ہلاک نہیں ہوتا اس کا یہی باعث ہو کہ انہوں نے نعوذ باللہ چند افترا خدا تعالیٰ پر کئے ہوں اور کہا ہو کہ مجھے یہ خواب آئی یا مجھے یہ الہام ہوا اور پھر اب تک ہلاک نہ ہوئے تو دل میں یہ سمجھ لیا کہ خدا تعالیٰ کا اپنے رسول کریم کی نسبت یہ فرمانا کہ اگر وہ ہم پر افتراء کرتا تو ہم اس کی رگِ جان کاٹ دیتے یہ بھی صحیح نہیں ہے اور خیال کیا کہ ہماری رگِ جان خدا نے کیوں نہ کاٹ دی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ آیت رسولوں اور نبیوں اور مامورین کی نسبت ہے جو کروڑ ہا انسانوں کو اپنی طرف دعوت کرتے ہیں اور جن کے افتراء سے دنیا تباہ ہوتی ہے لیکن ایک ایسا شخص جو اپنے تئیں مامور من اللہ ہونے کا دعوے کر کے قوم کا مصلح قرار نہیں دیتا اور نہ نبوت اور رسالت کا مدعی بنتا ہے اور محض ہنسی کے طور پر یا لوگوں کو اپنا رسوخ جتلانے کے لئے دعوی کرتا ہے کہ مجھے یہ خواب آئی اور یا الہام ہوا اور جھوٹ بولتا ہے یا اس میں جھوٹ ملاتا ہے وہ اس نجاست کے کیڑے کی طرح ہے جو نجاست میں ہی پیدا ہوتا ہے اور نجاست میں ہی مر جاتا ہے۔ایسا خبیث اس لائق نہیں کہ خدا اس کو یہ عزت دے کہ تو نے اگر میرے پر افتراء کیا تو میں تجھے ہلاک کر دوں گا بلکہ وہ بوجہ اپنی نہایت درجہ کی ذلّت کے قابل التفات نہیں۔کوئی شخص اس کی پیروی نہیں کرتا۔کوئی اس کو نبی یا رسول یا مامور من اللہ نہیں سمجھتا۔ماسوا اس کے یہ بھی ثابت کرنا چاہیئے کہ اس مفتر یا نہ عادت پر برا بر تئیس برس گذر گئے۔اربعین نمبر 3۔روحانی خزائن جلد 17 صفحه 405 تا 407) آپ نے فرمایا: وو ” اب دیکھو اس سے زیادہ تصریح کیا ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں بار بار فرماتا ہے کہ