شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 432 of 670

شیطان کے چیلے — Page 432

430 دسواں حصہ اس کے تمام ترکہ کا حسب ہدایت اس سلسلہ کے اشاعت اسلام اور تبلیغ احکام قرآن میں خرچ ہوگا اور ہر ایک صادق کامل الایمان کو اختیار ہو گا کہ اپنی وصیت میں اس سے بھی زیادہ لکھ دے لیکن اس سے کم نہیں ہوگا۔اس قبرستان میں دفن ہونے والا متقی ہو اور محرمات سے پر ہیز کرتا اور کوئی شرک اور بدعت کا کام نہ کرتا ہو۔سچا اور صاف مسلمان ہو۔“ ” ہر ایک صالح جو اس کی کوئی بھی جائیداد نہیں اور کوئی مالی خدمت نہیں کر سکتا اگر یہ ثابت ہو کہ وہ وو دین کے لئے اپنی زندگی وقف رکھتا تھا اور صالح تھا تو وہ اس قبرستان میں دفن ہوسکتا ہے۔“ یادر ہے کہ صرف یہ کافی نہ ہوگا کہ جائیداد منقولہ وغیر منقولہ کا دسواں حصہ دیا جاوے۔بلکہ ضروری ہوگا کہ ایسا وصیت کرنے والا جہاں تک اس کے لئے ممکن ہے پابند احکام اسلام ہو اور تقویٰ اور طہارت کے امور میں کوشش کرنے والا ہو اور مسلمان خدا کو ایک جاننے والا اور اس کے رسول پر سچا ایمان لانے والا ہو۔اور نیز حقوق عباد غصب کرنے والا نہ ہو۔“ اگر کوئی کچھ بھی جائیداد منقولہ یا غیر منقولہ نہ رکھتا ہو اور بایں ہمہ ثابت ہو کہ وہ ایک صالح درویش ہے اور متقی اور خالص مومن ہے اور کوئی حصہ نفاق یا دنیا پرستی یا قصور اطاعت کا اس کے اندر نہ ہو تو وہ میری اجازت سے یا میرے بعد انجمن کی اتفاق رائے سے اس مقبرہ میں دفن ہوسکتا ہے۔“ ☆ (رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن۔جلد 20 صفحہ 219 تا 227 ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مقرر فرموده ان شرائط پر عمل کی وصیت کرنے والے با عمل مومن کی تدفین اس قبرستان میں ہوتی ہے۔بہشتی مقبرہ کی شرائط میں بالکل واضح ہے کہ نظام وصیت کی اصل بنیاد، الله توحید باری تعالیٰ اور رسالت نبی اکرم ﷺ پر سا ایمان ، احکام اسلام کی پابندی، تقدم دین بر دنیا، تقویٰ ، طہارت ، دینداری، صالحیت، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی وغیرہ وغیرہ امور ہیں۔انہیں اعمال کی کوکھ سے دین کے لئے جان ، مال اور وقت کی قربانی جنم لیتی ہے۔یہ جنت کی بکنگ کا وہ اسلامی قانون ہے جو انفسهم واموالهم “ کے بدلہ جاری ہوا ہے، جس کو سیح پاک علیہ السلام نے با قاعدہ ایک نظام میں باندھا ہے۔قرآن کریم کی بنیاد پر قائم شدہ اس نظام پر راشد علی کو اعتراض ہے تو اس کا ہم کچھ نہیں کر سکتے۔دو