شیطان کے چیلے — Page 415
413 ترجمہ :۔ہم اپنے رسولوں کی اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دنیا میں ضرور مدد کریں گے۔کیا یہاں بھی معاملہ (نعوذ باللہ ) الٹ گیا کہ اللہ تعالیٰ نے انگریز کے قائم کردہ نبی کی تو مدد کی مگر اس کے بالمقابل ” مومنوں یعنی امتِ مسلمہ کی نہ صرف یہ کہ مدد نہ کی بلکہ اسے بالکل بے بس ہی کر دیا ؟؟ پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے: كَتَبَ اللهُ لَا غُلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ- (المجادلہ: 22) ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر چھوڑا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب آئیں گے۔اللہ یقیناً طاقتور غالب ہے۔لیکن یہاں راشد علی کی تحریر کے مطابق ( نعوذ باللہ نعوذ باللہ ) خدا تعالیٰ مغلوب ہو گیا اور انگریز اور اس کا خود کاشتہ نبی غالب رہا۔یہ منطقی نتیجہ ہے جو نعوذ باللہ من ذلک اس کی اس مذکورہ بالا تحریر سے نکلتا ہے۔کیا یہ راشد علی اور اس کے ہم مشربوں کے اپنے اصولوں کے منافی اور خدا تعالیٰ کے کلام سے متصادم خیالات نہیں؟ کیا یہاں خدا تعالیٰ اپنے ان تمام وعدوں کو بھول گیا (نعوذ باللہ ) اور ایک کا ذب کی تائید میں زمینی و آسمانی ، انفسی و آفاقی نشان ظاہر فرما کر قرآنی معیار صداقت کے مطابق اس کی سچائی کو ثابت فرما دیا۔جناب را شد علی صاحب ! بد بختی جب آڑے آتی ہے تو یہی حال کرتی ہے۔تم لوگوں کی تو شکست وریخت کی وجہ سے عقل ہی ماری گئی ہے اور حال یہ ہے کہ جو جو بات کہی الٹی چال چلے ٹیڑھی بیماری اگر آئی تم اس کو شفا لعنت کو پکڑ سمجھے بیٹھے انعام سمجھ کر تم حق نے جو ردا بھیجی تم اس کو ردی ردی سمجھے کیوں قعر مذلت میں گرتے نہ چلے جاتے تم بوم کے سائے کو ظل ہما سمجھے