شیطان کے چیلے — Page 397
395 ہم اس وقت اس ملک میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔مگر میں اس ملک کے امیروں اور رئیسوں کے نظائر پیش کرنا نہیں چاہتا جو میری رائے کی تائید کرتے ہیں۔اور میں مناسب نہیں دیکھتا کہ اس ملک کے ست اور کاہل اور آرام پسند اور دین و دنیا سے غافل اور عیاشی میں غرق امیروں اور دولتمندوں کے نمونے اپنی تائید دعویٰ میں پیش کروں۔کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ کسی کے دل کو دکھ دوں۔اس جگہ میرا مطلب صرف اس قدر ہے کہ اگر ہمارے بزرگوں کی ریاست میں فتور نہ آتا۔تو شاید ہم بھی ایسی ہی ہزاروں طرح کی غفلتوں اور تاریکیوں اور نفسانی جذبات میں غرق ہوتے۔سو ہمارے لئے جناب باری تعالیٰ جل جلالہ نے دولت عالیہ برطانیہ کو نہایت ہی مبارک کیا کہ ہم اس بابرکت سلطنت میں اس ناچیز دنیا کی صد ہاز نجیروں اور اس کے فانی تعلقات سے فارغ ہو کر بیٹھ گئے۔اور خدا نے ہمیں ان تمام امتحانوں اور آزمائشوں سے بچالیا۔کہ جو دولت اور حکومت اور ریاست اور امارت کی حالت میں پیش آتے۔اور روحانی حالتوں کا ستیا ناس کرتے۔کیا یہ خدا کا فصل ہے کہ اس نے ہمیں ان گردشوں اور طرح طرح کے حوادث میں جو حکومت کے بعد تحکم کے زمانہ سے لا زم حال پڑی ہوئی ہیں۔بر باد کرنانہیں چاہا۔بلکہ زمین کی ناچیز حکومتوں اور ریاستوں سے ہمیں نجات دے کر آسمان کی بادشاہت عطا کی۔جہاں نہ کوئی دشمن چڑھائی کر سکے۔اور نہ آئے دن اس میں جنگوں اور خونریزیوں کے خطرات ہوں۔اور نہ حاسدوں اور بخیلوں کو منصوبہ بازی کا موقع ملے۔اور چونکہ اس نے مجھے یسوع مسیح کے رنگ میں پیدا کیا تھا۔اور تو ار طبع کے لحاظ سے یسوع کی روح میرے اندر رکھی تھی۔اس لئے ضرور تھا کہ گم گشتہ ریاست میں بھی مجھے یسوع مسیح کے ساتھ مشابہت ہوتی سوریاست کا کاروبار تباہ ہونے سے یہ مشابہت بھی متفق ہوگئی۔جس کو خدا نے پورا کیا۔کیونکہ یسوع کے ہاتھ میں داؤ د بادشاہ نبی اللہ کے ممالک مقبوضہ میں سے جس کی اولاد میں سے یسوع تھا۔ایک گاؤں بھی باقی نہیں رہا تھا۔صرف نام کی شہزادگی باقی رہ گئی تھی۔ہر چند میں اس قدر تو مبالغہ نہیں کر سکتا کہ مجھے سر رکھنے کی جگہ نہیں۔لیکن میں شکر کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے ان تمام صعوبتوں اور شدتوں کے بعد جن کا اس جگہ ذکر کرنا بے محل ہے۔مجھے ایسے طور سے اپنی مہربانی کی گود میں لے لیا۔جیسا کہ اس نے اس مبارک انسان کو لیا تھا جس کا نام ابراہیم تھا۔اس نے میرے راشد علی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر زر، زن، زمین اور نام و نمود کا الزام بھی لگایا تھا جس کا جواب’ ذات پر اعتراضات کے باب