شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 391 of 670

شیطان کے چیلے — Page 391

389 سر لیبل گریفن کی کتاب ” رئیسان پنجاب میں ہے۔نیز میرے قلم کی وہ خدمات جو میری اٹھارہ سال کی تصنیفات سے ظاہر ہیں، سب کی سب ضائع اور برباد ہو جائیں۔اور خدانخواستہ سرکار انگریزی اپنے قدیم وفادار اور خیر خواہ خاندان کی نسبت کوئی تکذ ر خاطر اپنے دل میں پیدا کرے۔اس بات کا علاج تو غیر ممکن ہے کہ ایسے لوگوں کا منہ بند کیا جائے کہ جو اختلاف مذہبی کی وجہ سے یا نفسانی حسد اور بغض اور کسی ذاتی غرض کے سبب سے جھوٹی مخبری پر کمر بستہ ہو جاتے ہیں، التماس ہے کہ سرکار دولتمدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جانثار خاندان ثابت کر چکی ہے۔اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معز زحکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیر خواہ اور خدمتگذار ہیں۔اس خود کاشتہ پودہ کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے۔“ ( مجموعہ اشتہارات۔جلد 3 صفحہ 21) یہ عبارت کسی وضاحت کی محتاج نہیں۔اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت احمد یہ یا اپنے دعاوی کو سرکار کا خود کاشتہ پودہ قرار نہیں دیا بلکہ اپنے خاندان کی گزشتہ خدمات کے متعلق فرمایا ہے۔وہ خاندان نہ صرف یہ کہ احمدیت سے پہلے کا ہے بلکہ اس کی سب خدمات بھی احمدیت کے آغاز سے پہلے کی ہیں۔ان خدمات کا احمدیت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔خاندان کی ان خدمات کو آپ کے دعاوی یا آپ کی جماعت کی طرف منسوب کرنا محض بدیانتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے اس خاندان کے بارہ میں الہاماً بتایا کہ ينقطع من ابآءک و يبدء منک“ یعنی اب آپ کا آبائی خاندان آپ سے کٹ گیا ہے اور آپ سے آئندہ خاندان قائم ہوگا۔پس وہ خاندان جس کے بارہ میں ” خود کاشتہ پودہ کے الفاظ تھے وہ آپ سے بالکل کٹ کر پیچھے رہ گیا۔ظاہر ہے کہ راشد علی کا یہ اعتراض تو محض عناد اور افتراء پر مبنی تھا۔” خود کاشتہ پودہ در حقیقت کون تھا ؟ ملاحظہ فرمائیں کہ رسالہ طوفان کے ایڈیٹر نے بعض حقائق جمع کئے اور نتیجہ نکالا کہ ’ انگریزوں نے بڑی ہوشیاری اور چالاکی کے ساتھ تحریک نجدیت کا پودا ( یعنی اہلِ حدیث جسے وہابی تحریک یا تحریک نجدیت بھی کہتے ہیں۔ناقل ) ہندوستان میں کاشت کیا اور پھر اسے اپنے ہاتھ سے