شیطان کے چیلے — Page 361
359 years,They went back and submitted their report THE ARRIVAL OF BRITISH EMPIRE IN INDIA to the british parliament۔In this report they recommended that "We should create an apostolic prophet, who would abrogate the concept of Jehad among the Muslims۔" را شد علی کے اس جھوٹ پر ہمارا بنیادی جواب تو یہی ہے کہ لعنة الله على الكاذبين جہاں تک اس رپورٹ کا تعلق ہے تو اس نام کی یا اس نوع کی کوئی رپورٹ برطانیہ وامریکہ تو کیا دنیا کی کسی لائبریری میں موجود نہیں۔نہ ہی برٹش پارلیمنٹ کے ریکارڈ میں ہے اور نہ ہی یہاں کے چرچ کے ریکارڈ میں۔یہ رپورٹ تو تب کسی ریکارڈ میں محفوظ ہوتی اگر اس کا حقیقیہ کوئی وجود بھی ہوتا۔شیطان کی گود میں بیٹھ کر ایک جھوٹ گھڑ لینا اور پھر اسے خدا کے پاک مامور کی تکذیب میں اچھال دینا شیطان مرید کے کسی مُرید کا ہی افتراء ہوسکتا ہے۔جب راشد علی کو ایک انگریز متلاشی حق Mr Cox نیتا یا کہ برطانیہ تو کیا دنیا کی کسی لائبریری یا دنیا کے کسی ریکارڈ میں ایسی کسی رپورٹ کا ذکر تک نہیں اور نہ ہی کوئی ایسا وفد اس غرض کے لئے برصغیر پاک و ہند گیا تھا۔تو راشد علی نے جواب دیا کہ مشہور مؤرخ آغا شورش کا شمیری نے اس دستاویز کی موجودگی کا ذکر اپنی کتاب The story of Khatm e Nabuwat میں کیا ہے۔انہوں نے اس کے مصدر کا ذکر نہیں کیا لیکن مجھے ان کی اس بات پر شک کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی۔“ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔بے بنیاد اور بے حوالہ مؤرخ کی بے حوالہ بات کو راشد علی نے اپنی بنیاد بنا کر اپنے کذاب ہونے کا ثبوت دیا ہے۔اس رپورٹ کے جھوٹا اور جعلی ہونے کا اندرونی ثبوت یہ بھی ہے کے راشد علی اور اس کے پیر نے