شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 175 of 670

شیطان کے چیلے — Page 175

174 صداقت بھی آنحضرت ﷺ کی مہر کی تصدیق سے ہی ثابت ہوتی ہے۔دوم یہ کہ آنحضرت ﷺ کا مصدق جمع انبیاء ہونا صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہی نہیں بیان فرمایا بلکہ امت کے دیگر بکثرت آئمہ و علمائے سلف بھی یہی عقیدہ رکھتے تھے۔پس سچائی تو یہی ہے کہ نبی اور رسول تو خدا تعالیٰ ہی بھیجتا ہے لیکن ان کے مصدق ازل سے ابد تک ہمارے آقا و مولیٰ ، سید المرسلین، خاتم النبین حضرت محمد مصطفی ﷺے ہیں۔(ج) ختم نبوت کا دروازہ کھولا۔۔۔۔باقی رہارا شد علی کا مامور زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر یہ طنز کہ انہوں نے ختم نبوت کا دروازہ کھولا، اس میں داخل ہوئے اور پھر اسے بند کر دیا۔“ تو حقیقت یہ ہے کہ اس کا یہ طنز حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نہیں بلکہ آپ کے مصدق اور آپ کے بارہ میں پیشگوئی کرنے والے آقا پر ہے۔اس امت میں آنے والے مسیح ومہدی کے بارہ میں پیشگوئی خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ نے کی تھی اور اسے نبی اللہ قرار دیا تھا۔لہذا اگر ختم نبوت کا کوئی دروازہ تھا تو وہ آپ ہی نے کھولا تھا اور اس میں آپ ہی نے اپنے مہدی ومسیح کو داخل کیا تھا اور آپ ہی نے امت کو یہ تلقین فرمائی تھی کہ وہ اس پر ایمان لائیں اور اس کی بیعت کریں اور اسے آپ کا سلام پہنچائیں۔آپ نے اس ایک وجود کو ہی اس دروازہ میں داخل فرمایا تھا لیکن راشد علی کو تکلیف یہ ہے کہ آپ نے امت میں صرف ایک یعنی مسیح موعود و مہدی معہود کو کیوں نبی قرار دیا۔پس دیکھئے کہ اس کے اس طنز کی تان کہاں جا کر ٹوٹتی ہے۔ایسا اعتراض کرنے کا ویسے بھی راشد علی کو تب حق تھا جب وہ پہلے یہ ثابت کرتا کہ امت میں ایک نہیں بلکہ ایک سے زائد نبیوں کی بعثت مقدر ہے مرزا صاحب نے تو خواہ مخواہ صرف اپنے پر ہی دروازہ بند کر دیا۔اس دروازے میں ابھی اور نبی بھی داخل ہونے باقی ہیں۔آخر میں ہم راشد علی اس کے پیر اور ان کے ہم عقیدہ لوگوں کو غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں کہ کیا وہ اکابرین اسلام جن کے متعدد اقتباسات پہلے بھی گزر چکے ہیں، ان کے علم میں یہ حدیث نہیں تھی ؟ یا نعوذ باللہ وہ عہدِ حاضر کے علماء سے کم متقی تھے؟ کہ آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کے باوجود کہ کسی قسم کا کوئی نبی نہیں