شیطان کے چیلے — Page 102
101 لیا کرتے تھے۔اور ان سے مباشرت کرتے تھے۔اس حالت میں کہ آپ کا روزہ ہوتا تھا۔مگر آپ اپنی خواہش پر تم سب سے زیادہ قابور رکھتے تھے۔اب کیا قرآن کریم کے حکم لَا تُبَاشِرُوهُنَّ (البقرة:188 )کومندرجہ بالا روایت کے الفاظ وو يباشر وهو صائم کے بالمقابل رکھ کر کوئی ایماندار شخص یہ کہنے کی جرات کر سکتا ہے کہ دونوں جگہ ایک ہی چیز کی نفی اور ایک ہی چیز کا اثبات کیا گیا ہے۔ظاہر ہے کہ حدیث مندرجہ بالا میں ” مباشرت سے مراد مجامعت نہیں۔بلکہ محض عورت کے قریب ہونا ہے اور اس پر قرینہ اسی روایت کا اگلا جمله و کـــان امــلـکـکـم لا ربہ ہے۔لیکن ان معنوں کے بر عکس قرآن مجید میں جو لفظ مباشرت آیا ہے، اس سے مراد ” مجامعت“ ہے۔پس گو دونوں جگہ لفظ ایک ہی استعمال ہوا ہے مگر اس کا مفہوم دونوں جگہ مختلف ہے اور سیاق وسباق عبارت سے ہمارے لئے اس فرق کا سمجھنا نہایت آسان ہے۔-2 قرآن مجید میں ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَا ضَلَّ صَاحِبُكُم وَمَا غَوَى (انجم:3) که رسول خدا عضال نہیں ہوئے اور نہ راہ راست سے بھٹکے لیکن دوسری جگہ فرمایا وَوَجَدَگ ضَالاً فَهَدی (الضحی : 8) کہ اے رسول ! ہم نے آپ کو ضال‘ پایا اور آپ کو ہدایت دی۔دونوں جگہ ” ضال“ ہی کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ایک جگہ اس کی نفی کی گئی ہے مگر دوسری جگہ اس کا اثبات ہے۔کیا کوئی ایماندار کہہ سکتا ہے کہ ان دونوں عبارتوں میں تناقض ہے۔ہرگز نہیں۔کیونکہ ہر اہلِ علم دونوں عبارتوں کے سیاق وسباق سے سمجھ سکتا ہے کہ دونوں جگہ لفظ ” ضال‘ ایک معنے میں استعمال نہیں ہوا۔بلکہ دونوں جگہ اس کا مفہوم مختلف ہے۔ایک جگہ اگر مراد گمراہ ہونا ہے اور اس کی نفی ہے تو دوسری جگہ تلاش کرنے والا قرار دینا مقصود ہے اور وہاں اس امر کا اثبات ہے۔پس کسی کا یہ کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش کرنا کہ لفظ دونوں جگہ ایک ہی ہے ، سیاق و سباق عبارت دیکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ حد درجہ کی نا انصافی ہے۔قرآن کریم کا ترجمہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کسی سے نہیں پڑھا ہم راشد علی کی پیش کردہ دونوں عبارتوں پر ان کے سیاق وسباق کے لحاظ سے جب غور کرتے ہیں تو صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ " کتاب البریہ صفحہ 180 کی عبارت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ