شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 73 of 670

شیطان کے چیلے — Page 73

73 کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملا زم ہو گئے۔یہ واقعہ ہے عنفوانِ شباب کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بھول پن کا ، آپ کے تقویٰ اور حیا کا۔لیکن جہاں تک دھوکہ دینے والے کا تعلق ہے وہ دھوکہ دینے والا نہ صرف یہ کہ پھر بعد میں احمدی نہیں ہوا تھا بلکہ شدید مخالف تھا یعنی راشد علی کی قماش کا تھا۔چوری اس نے کی اور الزام حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر۔پس روایت میں امام دین کے دھوکہ باز ہونے کا ذکر ہے۔مجرم دھوکہ دینے والا ہوتا ہے دھو کہ کھانے والا نہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَدَلَهُمَا بِغُرُورِ شیطان نے ان دونوں کو دھوکہ دیا۔یعنی دھو کہ باز اور مجرم ابلیس ہے ، حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت تو انہیں۔بلکہ حضرت آدم کو تو خدا تعالیٰ نے مقام نبوت عطا فر مایا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق یہ سراسر جھوٹ ہے اور آپ پر یہ اتہام بے بنیاد ہے۔آپ ابتدائے عمر سے ہی پاکبازی اور تقویٰ کے اعلی ترین مقام پر قائم تھے۔آپ فرماتے ہیں : ابتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کٹے گود میں تیری رہا میں مثل طفل شیر خوار آپ کے اس تقویٰ کا ذکر زبان زد عام تھا۔حتی کہ اس کی گواہی ایک ایسے شخص نے بھی دی جو بعد میں آپ کا شدید مخالف بنا۔اس کی اپنی گواہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تمام عمر انتہائی تقویٰ کے ساتھ گزاری۔قبل اس کے کہ ہم اس گواہی کو تحریر کریں، یہ بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ ان لوگوں نے آپ پر چوری کا یہ الزام کیوں لگایا ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ پہلے نبیوں پر بھی چوریوں کے الزام لگانے کے عادی ہیں۔پھر یہ کس طرح ممکن تھا کہ وہ اس شخص کو جس مفتری سمجھتے ہوں اور اس کی تکذیب پر ادھار کھائے بیٹھے ہوں ، بڑھ بڑھ کر الزام نہ لگاتے۔چنانچہ قرآن کریم میں حضرت یوسف علیہ السلام کے متعلق جو یہ واقعہ آتا ہے کہ آپ کے بھائیوں نے بن یامین کے معاملہ میں کہا کہ اس سے پہلے اس کے بھائی (یعنی حضرت یوسف ) نے بھی چوری کی تھی تو یہاں یہ بات ظاہر ہے کہ قرآنِ کریم نے اس واقعہ کو ایک جھوٹے الزام کے طور پر پیش کیا ہے۔نہ یہ کہ اسے