شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 72 of 670

شیطان کے چیلے — Page 72

72 چھپایا تھا مگر ان لوگوں کو معلوم ہو گیا جس پر یہ بغلیں بجانے لگے ہیں۔اس دوا کے تمام اجزاء کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے علی الاعلان کیا اور اسے شائع بھی کیا۔کیونکہ جس طرح ایلو پیتھک ادویہ میں ایک مخصوص مقدار الکحل کی استعمال ہوتی ہے اسی طرح بعض دیسی دواؤں کے ساتھ افیون کی معمولی مقدار کا استعمال بطور دوا ، نہ کہ برائے نفقہ، کسی رنگ میں بھی قابلِ اعتراض نہیں ہے۔ہاں خالی افیون ضرور قابلِ اعتراض ہے۔جس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے واضح طور پر نفرت اور کراہت کا اظہار فرمایا۔اصل بات یہ تھی کہ اس مسئلہ پر چونکہ کوئی اعتراض نہیں اٹھ سکتا تھا اس لئے راشد علی اور اس کے پیر نے ایک عبارت میں تحریف و تلیس کر کے اسے اپنی طرف سے صریح جھوٹ بنا کر پیش کیا ہے۔(2) رقم کی چوری اور نوکری را شد علی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں لکھتا ہے کہ وہ گھر سے سالانہ پینشن کے پیسے چرا کر بھاگے اور اس کو اپنی عیاشی کی نظر کر دیا۔کچھ عرصے بعد جب کنگے ہو گئے تو سیالکوٹ میں کچہری میں نوکری کر لی۔بے لگام کتاب ) ا:۔چوری راشد علی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر یہ ایک سراسر افترا باندھا ہے کہ آپ نے نعوذ باللہ من ذالک اس زمانہ میں چوری کی تھی۔جس کی وجہ سے آپ گھر سے نکلے۔اس کے متعلق ہم نے تلاش کیا کہ کہیں کوئی ایسا واقعہ ملتا ہو جس پر انہوں نے اس اعتراض کی بنا کی ہے تو ہمیں سیرۃ المہدی ( جلد 1 صفحہ 43 44 روایت نمبر 49) کی یہ روایت ملی کی ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے والد کی پینشن لینے سیالکوٹ گئے تو مرزا امام دین جو آپ کے خاندان ہی کا ایک فرد تھا وہ آپ کے پیچھے پڑ گیا اور قادیان لانے کی بجائے ادھر ادھر پھر ا تا رہا۔پھر جب اس نے سارا روپیہ اڑا کرختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس شرم سے قادیان واپس نہ گئے۔چونکہ آپ کے والد صاحب کا منشاء رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہو جائیں اس لئے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی