شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 70 of 670

شیطان کے چیلے — Page 70

70 70 (1) شراب اور افیون وغیرہ کے استعمال کا الزام را شد علی نے جھوٹ کی شراب میں مدہوش ہو کر خدا تعالیٰ کے پاک مسیح پر سراسر بہتان اور افتراء کرتے ہوئے اپنی ” بے لگام کتاب میں لکھا ہے۔وو مرزا صاحب دیگر رئیسوں کی طرح شراب اور افیون کا استعمال کرتے تھے۔بلکہ افیون کو نصف طب قرار دیتے تھے حتی کہ ” خدا تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت تیار کردہ تریاق الہی نامی دوا کا ایک بڑا جز وافیون تھا۔اس دوا کومرزا صاحب مختلف دوروں کے وقت استعمال کیا کرتے تھے۔چنانچہ ایک تو ذہنی مریض اور سونے پر سہاگہ، افیون اور شراب !! جو کچھ نہ " ہوجا تا کم تھا ! ! مضمون میاں محموداحمد خلیفہ قادیان مندرجہ افضل جلد 17 نمبر 6 مورخہ 19 جولائی 1949ء) “ را شد علی اور اس کے پیر کی یہ کھلی کلی تلی ہے کہ حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی عبارت میں اپنی طرف سے فقرات داخل کر کے اسے آپ کی عبارت کے طور پر پیش کیا ہے۔جہاں تک راشد علی کی پیش کردہ ان دو خبیث چیزوں کا تعلق ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: شراب جو ام الخبائث ہے وہ عیسائیوں میں حلال سمجھی جاتی ہے مگر ہماری شریعت میں اس کو قطعاً منع کیا گیا ہے اور اس کو رجس مِّن عَمَلِ الشَّيطن کہا گیا ہے۔“ ( ملفوظات۔جلد 5 صفحہ 450) اور افیون کے بارہ میں لکھا ہے: جولوگ افیون کھاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہمیں موافق آ گئی ہے۔وہ موافق نہیں آتی۔دراصل وہ وو اپنا کام کرتی رہتی ہے اور قومی کو نابود کر دیتی ہے۔“ لمفوظات۔جلد 3 صفحہ 416) پس راشد علی پر یہ لعنت خداوندی کی مار ہے کہ وہ جھوٹ کو اس طرح مرغوب سمجھتا ہے جس طرح اس کا پیر عبدالحفیظ مور مارکہ سگریٹ کو۔حقیقت یہ ہے کہ خالی افیون تو نشہ پیدا کرتی ہے مگر دیگر دوائیوں میں مرتب کی صورت میں یہ نشہ پیدا نہیں کرتی۔جس طرح اکیلی الکحل یعنی خالص شراب نشہ پیدا کرتی ہے مگر تھوڑی مقدار میں دیگر دوائیوں