شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 622 of 670

شیطان کے چیلے — Page 622

619 ایک تاریخی حیثیت بھی رکھتا ہے۔جس کو محفوظ کرتے ہوئے قرآن کریم نے حضرت عیسی کی صلیبی موت سے نجات کا ذکر فر مایا اور انا جیل نے بھی ایسے قطعی ثبوت مہیا کئے ہیں کہ جن سے یہ تاریخی حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام کو یقینی طور پر صلیبی موت سے بچالیا تھا۔لیکن آنحضرت کی امت میں ایک نبی کی آمد امتِ مسلمہ کا ایسا مسلّمہ اور متفقہ عقیدہ ہے جو ایمانیات سے تعلق رکھتا ہے۔ایک مسلمان کے ایمان کا منبع قرآن کریم اور اس کے بعد سنتِ نبوی اور پھر احادیث صحیحہ ہیں ، نہ کہ انجیل اور وہ بھی ایسی کہ جس کو محض تاریخ کی ایک کتاب ہی کا درجہ دیا جا سکتا ہے، اس سے بڑھ کر اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ایسی انجیل پر الیاس ستار نے اگر اپنے ایمان کی بنیاد رکھ کر آنے والے مسیح کو بیک جنبش قلم جھوٹا نبی قرار دیدیا ہے تو یہ اس کی اپنی گمراہی کی تین دلیل تو ہے مگر اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مذکورہ بالا بیان پر ایک ذرہ بھر زد نہیں پڑتی۔یہ لوگ جس عیسی کی آخری زمانہ میں آمد کی آس لگائے بیٹھے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ یہ آنے والا مسیح فی الحقیقت وہی حضرت عیسی علیہ السلام ہیں جو بنی اسرائیل کے لئے نبی تھے۔تو یہ لوگ برنباس کی انجیل پر تکیہ کر کے اس مسیح کو کیسے لائیں گے جسکے لئے وہ یہ امید بھی لگائے بیٹھے ہیں کہ ” جب حضرت عیسی دنیا میں آئیں گے تو وہ نہ صرف دقبال کو ماریں گے بلکہ مرزا صاحب کی احمدیت کو بھی ختم کر دیں گے۔“ الیاس ستار کو یہ تو علم ہونا چاہئے تھا کہ تاریخی کتاب کا درجہ کیا ہوتا ہے۔وہ انجیل برنباس کو خوامخواہ قرآن کریم کے مرتبہ پر رکھ کر اس کی ہر بات کو قابلِ ایمان و تقلید بنارہا ہے۔جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی دلیل فقط قرآن کریم پر استوار کی ہے۔آپ نے انجیل برنباس پر اپنے بیان کی کوئی بنا نہیں رکھی بلکہ اس کو محض ایک تاریخی درجہ پر رکھ کر ایک تائیدی ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے اور ایک ایسی تاریخی حقیقت اور سچائی کی طرف توجہ دلائی ہے جس کی تصدیق حضرت عیسی علیہ السلام نے خود فرمائی تھی۔اسی سچائی کو قرآن کریم نے بھی بڑی وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دلیل کا سر چشمہ قرآن کریم ہے۔باقی سب کتب یا علوم اس قرآنی دلیل کے لئے تائیدی حیثیت رکھتے ہیں۔جو عبارت الیاس ستار نے کتاب ” مسیح ہندوستان میں کی تحریر کی ہے، اس سے اگلا فقرہ یہ ہے