شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 616 of 670

شیطان کے چیلے — Page 616

613 مسلمان کو بھی انکار نہیں۔اس حدیث نبوی کے ایک حصہ کے پورا ہونے پر سب کا اتفاق ہونا اس کے دوسرے حصہ کی سچائی اور صحت و ثقاہت کی ایک ناقابل تردید اندرونی شہادت ہے۔اسی وجہ سے آج تک کسی صاحب علم نے اس حدیث پر نظر جرح تک نہیں اٹھائی۔لیکن جہاں تک اس حدیث کے متن کا تعلق ہے تو وہ بجائے خود ایک واقعاتی حقیقت ہے جو ہر نبی کی زندگی میں ظاہر ہوتی رہی ہے۔کیونکہ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اس مرض میں جس میں آپ نے وفات پائی ، بیان فرمایا کہ ” جبرائیل ہر سال ایک دفعہ مجھے قرآن سنایا کرتے تھے مگر اس دفعہ انہوں نے مجھے دو دفعہ قرآن سنایا ہے اور مجھے خبر دی ہے کہ کوئی نبی نہیں گزرا کہ جس کی عمر پہلے نبی سے آدھی نہ ہوئی ہو اور یہ بھی انہوں نے مجھے خبر دی ہے کہ عیسی بن مریم ایک سو بیس سال کی عمر تک زندہ رہے پس میں سمجھتا ہوں کہ میری عمر ساٹھ سال کے لگ بھگ ہو گی۔“ 66 ظاہر ہے کہ اس حدیث کے الفاظ میں نہ کوئی ابہام ہے نہ اشکال۔بہت واضح رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتایا ہے کہ ہر نبی اپنے سے پہلے گزرے ہوئے نبی کی عمر سے نصف عمر ضرور پاتا ہے۔یہ کبھی نہیں ہوا ہے کہ مثلاً ایک نبی نے ساٹھ سال کی عمر میں وصال پایا ہو تو اس سے بعد میں آنے والا تھیں سال سے پہلے فوت ہو گیا ہو۔وہ اپنے سے پہلے نبی کی نصف عمر سے ضرور آگے بڑھا ہے۔چنانچہ ایک مثال بھی ایسی پیش نہیں کی جاسکتی کہ کوئی نبی ایسا ہو جو اپنے سے پہلے نبی کی کم از کم نصف عمر تک نہ پہنچا ہو۔یہی سچائی ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باجود میں بھی حق بن کر ظاہر ہوئی یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کی عمر یعنی 120 سال سے نصف پار کر کے آپ نے جام وصال نوش فرمایا۔آپ کا یہ المی خبر بیان فرمانا اور اس کے مطابق ساٹھ سال سے آگے گزر کر فوت ہونا ، بذاتِ خود اس حدیث کی صداقت کی دلیل ہے اور اس تو جیہہ کے درست ہونے کی دلیل ہے جو ہم نے اوپر بیان کی ہے۔الیاس سٹار نے کتاب " دعوۃ الا میر" کے جس اقتباس کو اپنی نا کبھی کی وجہ سے ہدف تضحیک بنایا ہے وہ بالکل سادہ سلیس اور عام فہم اردو میں ہے اور حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے بڑی آسان زبان میں یہ تحریر فرمایا ہے کہ