شیطان کے چیلے — Page 590
587 کیا ہے اور انہیں، جیسا کہ جلی الفاظ سے ظاہر ہے ، ان کے محققوں کی تحقیقات اور ” بڑے بڑے پادریوں کے مسلمات کے ذریعہ لاجواب کیا ہے اور یہودیوں کی تاریخ کے حوالہ سے ان کا رڈ کیا ہے۔آپ نے عیسائیوں کے نزدیک حضرت عیسی علیہ السلام کی وہ زندگی مراد لی ہے جو عیسائیوں کے نزدیک محض واقعہ صلیب پر ختم ہو گئی تھی۔اور آپ کی وہ مزعومہ صلیبی موت ہی ان کے عقیدہ کفارہ کی بنیاد ہے۔اور یہودیوں کے نزدیک تو حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ہوئی ہی صلیب پر تھی۔کیونکہ وہ آپ کو (نعوذ باللہ ) ملعون ثابت کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کتاب میں ” معاند پادریوں ، محقق وو " عیسائیوں اور یہودیوں کی تاریخ کے حوالہ سے ان کی مسلمہ اور تسلیم شدہ باتوں کو پیش کر کے اسلام کا دفاع کیا ہے اور ان کا جھوٹا ہونا ثابت فرمایا ہے۔یہ عقائد اور مسلمات عیسائیوں کے ہیں یا یہودیوں کے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نہیں ہیں۔مخالف کو اسی کے مسلمات کی رو سے الزامی جواب دینا اور اس کو لاجواب کرنا علم کلام کا ایک خاصہ ہے جسے قرآن کریم نے بھی بڑی کثرت کے ساتھ استعمال فرمایا ہے، اور اسی کی پیروی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کی ہے۔غالبا اس قرآنی اصول سے لاعلم ہونے کے باعث الیاس ستار نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر حملہ کیا ہے۔چونکہ کتاب ”چشمہ مسیحی میں یہ ساری بحث عیسائیوں کے ساتھ ہے اور ان کے جوابات بھی انہی کی کتابوں کی رو سے دیئے گئے ہیں۔قرآن وحدیث کی رو سے نہیں دیئے گئے۔اسلئے ظاہر ہے کہ اس میں بیان شدہ دلائل کے مخاطب مسلمان نہیں ہیں ، نہ ہی ان کا تعلق کتاب انجام آتھم ، میں قرآن کریم کی رو سے بحث سے ہے اور نہ ہی حدیث کے تناظر میں پیش فرمودہ اس بحث سے ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کتاب ” مسیح ہندوستان میں میں کی ہے۔اس بحث کا زاویہ نگاہ اور ہے اُس کا بالکل اور۔اس کا موقع محل اور ہے اور اُس کا بالکل اور۔اس کتاب کے مخاطب اور لوگ ہیں اور ان کتب کے مخاطب بالکل اور۔اُن کتب میں زیر بحث تحریروں میں مسلمانوں کو ان کے مسلمات کی رو سے ایک سچائی اور حقیقت سے آگاہ کیا گیا ہے جبکہ کتاب ”چشمہ مسیحی میں عیسائیوں کے مسلمات کی روشنی میں ان کے اعتراض انہی پر لوٹائے گئے ہیں۔اس لئے ان کتب کی مختلف عبارتوں کو محض آمنے سامنے رکھ کر ان میں اختلاف اور تضاد قرار دینا دانشمندی نہیں ، جہالت ہے۔یا پھر دھوکہ دہی ہے اس کے سوا کچھ نہیں۔