شیطان کے چیلے — Page 589
586 نیک کیوں کہتا ہے۔ان کا وہ کلمہ جو صلیب پر چڑھائے جانے کے وقت ان کے منہ سے نکلا کیسا تو حید پر دلالت کرتا ہے کہ انہوں نے نہایت عاجزی سے کہا۔ایلی ایلـی لـمـا سبقتا نی یعنی اے میرے خدا! اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔کیا جو شخص اس عاجزی سے خدا کو پکارتا ہے اور اقرار کرتا ہے کہ خدا میرا رب ہے اس کی نسبت کو ئی عظمند گمان کر سکتا ہے کہ اس نے درحقیقت خدائی کا دعویٰ کیا تھا؟“ پھر فرمایا: یادر ہے کہ پولوس حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی میں آپ کا جانی دشمن تھا۔اور پھر آپ کہ وفات کے بعد جیسا کہ یہودیوں کی تاریخ میں لکھا ہے اس کے عیسائی ہونے کا موجب اس کے اپنے بعض نفسانی اغراض تھے جو یہودیوں سے پورے نہ ہو سکے۔اس لیے وہ ان کو خرابی پہنچانے کے لیے عیسائی ہو گیا۔اور ظاہر کیا کہ مجھے کشف کے طور پر حضرت مسیح ملے ہیں۔اور میں ان پر ایمان لایا ہوں۔اوراس نے پہلے پہل تثلیث کا خراب پودہ دمشق میں لگایا۔اور یہ پولوسی تثلیث دمشق سے ہی شروع ہوئی۔“ نیز فرمایا: وو ” صاف ظاہر ہے کہ اگر پولوس حضرت مسیح کے بعد ایک رسول کے رنگ میں ظاہر ہونے والا تھا جیسا کے خیال کیا گیا ہے تو ضرور حضرت مسیح اس کی نسبت کچھ خبر دیتے۔خاص کر کے اس وجہ سے تو خبر دینا نہایت ضروری تھا کہ جبکہ پولوس حضرت عیسی کی حیات کے تمام زمانہ میں حضرت عیسی" سے سخت برگشتہ رہا۔اور ان کے دکھ دینے کے لیے طرح طرح کے منصوبے کرتا رہا۔تو ایسا شخص ان کی وفات کے بعد کیونکر امین سمجھا جاسکتا ہے۔بجز اس کے کہ خود حضرت مسیح کی طرف سے اس کی نسبت کھلی کھلی پیشگوئی پائی جائے اور اس میں صاف طور پر درج ہو کہ اگر چہ پولوس میری حیات میں میرا سخت مخالف رہا ہے اور مجھے دکھ دیتا رہا ہے لیکن میرے بعد وہ خدا تعالیٰ کا رسول اور نہایت مقدس آدمی ہو جائے گا۔بالخصوص جبکہ پولوس ایسا آدمی تھا کہ اس نے موسی کی توریت کے برخلاف اپنی طرف سے نئی تعلیم دی۔“ ( چشم مسیحی۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 374تا377) وو معززقارئین اکتاب چشمہ مسیحی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عیسائیوں کے ایک رسالہ ” ینا بیع الاسلام“ کے رد میں 1906ء میں تحریر فرمائی۔عیسائی اپنے اس رسالہ میں اسلام پر شدید زہر ناک حملے کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کتاب میں ان کو انہی کے مسلمات کی رو سے مطعون