شیطان کے چیلے — Page 584
581 بھی ( جو پولوس کی سازش کا شکار ہو گیا تھا ) متوازی طور پر بات کی ہے۔سورہ المائدہ میں اللہ تعالیٰ کا حضرت عیسی علیہ السلام سے جو سوال ہے وہ بحیثیت مجموعی عیسائیت کے کھلے کھلے شرک میں مبتلا ہو جانے کے بارہ میں ہے۔کیونکہ اس سوال میں ”بعض الناس“ وغیرہ نہیں فرمایا بلکہ ” الناس فرما کر کلی طور پر عیسائیوں کے متعلق استفسار فرمایا ہے۔اسی طرح ” الناس“ سے مراد بنی اسرائیلی ہیں کیونکہ حضرت عیسی علیہ السلام صرف ان کی طرف ہی مبعوث ہوئے تھے۔چنانچہ آپ نے اپنی 120 سالہ زندگی میں صرف بنی اسرائیل میں سے ہی توحید پرست پیروکار بنائے تھے۔البتہ ارضِ مقدسہ جہاں سے آپ نے ہجرت فرمائی اس علاقہ کے لوگوں میں سے کچھ بنی اسرائیلی اور کچھ غیر اسرائیلی لوگ پولوس کے پیچھے لگ گئے تھے۔اس ایک طبقہ کے بگڑنے کو عیسائیت کے کلیہ بگڑنے سے تعبیر کرنا انصاف کے سراسر خلاف ہے۔الغرض تخم ریزی، ابتدا اور شروع کو جو انتہا اور تکمیل سمجھے اس کے لئے تو عقل کی نعل بنانی چاہئے۔وو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شروع“ اور ” تخم ریزی“ کے الفاظ اس لئے استعمال فرمائے ہیں کہ تدریج کے عمل کی طرف توجہ دلائیں اور قاری کی توجہ جزوی بگاڑ اور کلی بگاڑ کے الگ الگ ادوار کی طرف مبذول ہو۔بالکل اسی طرح جیسے ایک پیج جب بویا جاتا ہے تو وہ زمین میں مخفی ہوتا ہے مگر آہستہ آہستہ پرورش پاتے پاتے ایک پودے کی شکل میں زمین سے باہر سر نکال لیتا ہے اور پھر بڑھتے بڑھتے ایک تناور درخت بن جاتا ہے۔بعینہ ، شرک کے لحاظ سے عیسائیت کے تین ادوار ہیں۔ا:۔ہجرت عیسی کے بعد مہجور علاقہ میں حواریوں کا دور۔جن میں پولوس نے شرک کا بیج بویا۔۲: وفات عیسی کے بعد ہجرت والے علاقہ میں شرک کی شروعات اور پھر اس کا عمومی پھیلاؤ۔:۔چھٹی صدی کے بعد عیسائیت پر شرک کا مکمل غلبہ۔یعنی پولوس نے حضرت عیسی علیہ السلام کی ہجرت کے بعد آپ کی عدم موجودگی میں ،لیکن آپ کی زندگی میں ہی دمشق میں شرک کی تخم ریزی کی۔جس نے تدریجا نشو ونما پائی اور حضرت عیسی علیہ السلام کی 120 سالہ زندگی کے بعد اس میں مزید وسعت آئی۔پھر اس کے پھیلاؤ کا تدریجی عمل جاری رہا اور بالآ خر چھٹی صدی کے بعد عیسائیت پر شرک کا مکمل غلبہ ہو گیا۔الیاس ستار نے لکھا ہے کہ