شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 576 of 670

شیطان کے چیلے — Page 576

573 الجواب:۔اس ساری بحث میں الیاس ستار نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مختلف عبارتوں کو محض ایک دوسرے کے سامنے رکھ کر خود اپنی ہی عقل سے کھلا کھلا دھو کہ کھایا ہے۔اسی وجہ سے اس نے ان تحریروں کے نتائج غلط اخذ کئے ہیں اور ہائے 120 ہائے 120 کے سوقیانہ نعرے بھی لگائے ہیں۔اس ساری بحث میں اس نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ گویا حضرت مرزا صاحب کو حقیقت حال کا علم نہ تھا اس لیے انہوں نے کبھی کچھ لکھا اور کبھی کچھ۔لہذا ان کا دعوی ہی غلط تھا۔معززقارئین! حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جو تحریریں الیاس ستار نے پیش کی ہیں ان میں کوئی تضاد اور اختلاف نہیں۔اور حقیقت یہ ہے کہ جس بنیاد پر اس نے ان میں اختلاف اور تضاد ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، اگر اس بنیاد کو درست تسلیم کر لیا جائے تو اس کی زد قرآن کریم پر بھی پڑتی ہے اور احادیث نبویہ پر بھی۔اور امر واقع یہ ہے کہ تقریباً ایسی ہی بنیادوں پر قائم ہو کر بعض علماء ( گوان کی نیت نیک تھی اور وہ عزائم ہرگز نہیں تھے جو الیاس ستار وغیرہ کے ہیں ) اس حد تک آگے بڑھ گئے کہ انہوں نے قرآنِ کریم کی ایک آیت کو دوسری کی ناسخ قرار دے کر بعض آیات پر خط تنسیخ پھیر دیا اور عملاً یہ ثابت کیا کہ گویا نعوذ باللہ ، اللہ تعالیٰ سے غلطی ہو گئی تھی۔پہلے اُس نے کچھ کہہ دیا تھا اور پھر بعد میں کچھ اور نازل کر دیا۔جس نے پہلے کی تنسیخ کر دی۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے شروع میں ہی یہ تاکید فرمائی تھی کہ۔ذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ۔(البقرہ:3) یہ وہ کتاب ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں۔اور فرمایا ” وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَا ًفا كَثِيرا (النساء: 83) ترجمہ:۔اور اگر یہ ( قرآن کریم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت سا اختلاف پاتے۔یعنی صرف خدا تعالیٰ کا کلام ہی ہے جو شک ، اختلاف اور تضاد وغیرہ سے پاک اور مبرا ہے۔پس جہاں نوبت یہاں تک پہنچی ہو کہ خدا تعالیٰ کے ان ارشادات کے ہوتے ہوئے بھی قرآنِ کریم کی بعض آیات کو ایک دوسرے سے منسوخ کیا جارہا ہو وہاں کسی بھی انسان کے کلام سے کھیل جانا تو ایسے لوگوں کا ادنیٰ کرشمہ ہے۔بہر حال یہ ایک ابدی سچائی ہے کہ تضاد اور اختلاف سے پاک اور مبر اہونا صرف اور صرف کلام الہی کا ہی اعجاز اور طرہ امتیاز ہے۔لیکن یہاں یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ وہ عبارتیں جو الیاس ستار نے پیش کی ہیں گو اس جیسے سطحی نظر والے کو ان میں بظاہر اختلاف نظر آتا ہومگر در حقیقت ان میں نہ کوئی