شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page vi of 670

شیطان کے چیلے — Page vi

جماعت احمدیہ کے خلاف اپنی ایک تصنیف میں یہ اعتراف کیا کہ د, آج تک احمدیت پر جس قدر لٹریچر علمائے اسلام نے پیش کیا ہے، اس میں دلائل کم تھے اور گالیاں زیادہ۔ایسے دشنام آلودہ لٹریچر کو کون پڑھے اور مغلظات کون سنے۔“ ( حرف محرمانہ (احمدیت پر ایک نظر ، صفحہ 11 12۔مطبوعہ شیخ غلام علی اینڈ سنز۔لاہور ) اس کی تصدیق خود راشد علی نے بھی اپنی ” بے لگام کتاب میں کی ہے۔وہ یہ تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخالفین نے آپ کے خلاف اسقدر بدزبانی اور دشنام دہی کی کہ آپ تنگ آگئے۔چنانچہ وہ لکھتا ہے۔بالآخر مخالفین کی ہرزہ سرائیوں سے تنگ آکر مرزا صاحب نے اللہ تعالیٰ کی جناب 66 میں دعا کی۔۔۔ظاہر ہے کہ ایسے لٹریچر کا مقصد اخفائے حق تو ہے ہی مگر اس کے ساتھ ساتھ افراد جماعت کی دلآ زاری بھی ضرور ہے۔اس دلآزاری کو سید عبدالحفیظ اور راشد علی نے ایک زاویہ یہ بھی دیا ہے کہ وہ کھلی کھلی ژاثر خائی اور ہرزہ سرائی کے ساتھ ساتھ جماعت احمدیہ کے مقدس بانی کے کارٹون بنا کر شائع کرتے ہیں۔اس کا نتیجہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں نکلتا کہ ایسا کرنے والوں کا اپنا خبث باطن ہی ظاہر و باہر ہو جاتا ہے۔آخر ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی تصویر میں بنانے والے بد بخت بھی تو پیدا ہوئے اور تحریروں میں تصویر کشی کرنے والے بھی اپنے ہی نفس کا گند ظاہر کر گئے۔لیکن ہر ایک جانتا ہے کہ ایسا کرنے والے کس قماش کے لوگ تھے۔آج اسی گروہ میں سید عبد الحفیظ اور اس کا مرید راشد علی بھی نمایاں طور پر نظر آنے کے لئے ایڑیاں اونچی کر رہے ہیں۔ان کی طرف سے مسلسل ایسے دلآزار اور تکلیف دہ رویہ پر قرآن کریم کی حسب ذیل اجازت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ، اس کتاب میں ان کا حربہ ایک حد تک انہیں پر الٹایا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لَا يُحِبُّ اللهُ الجَهَرَ بِالسُّوءِ مِنَ القَول إِلَّا مَن ظُلِمَ (النساء: 149) ترجمہ: اللہ بری بات کہنا پسند نہیں کرتا، مگر وہ مستفی ہے جس پر ظلم کیا گیا ہو۔یہ حکم اس لئے ہے کہ بعض لوگ جب ایسے ظلم میں حد سے بڑھ جائیں تو اُن کو روکنے کے لئے وہ ظلم