شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 559 of 670

شیطان کے چیلے — Page 559

555 یہ دراصل آنحضرت ﷺ کی ایک حدیث کا استعمال ہے جو اس نے ایسی جگہ کیا ہے کہ انسان اس کی جہالت پر حیران ہو جاتا ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ تین سے قلم اٹھالی گئی ہے۔اسونے والے پر سے جب تک کہ وہ بیدار نہ ہو جائے۔: ۲ بچہ سے جب تک کہ وہ جوان نہ ہو جائے اور : ٣ معتوہ یعنی مخبوط الحواس یا فاتر العقل سے جب تک کہ وہ ذی عقل نہ ہو جائے۔( ترندی۔کتاب الحدود ) یہ وہ معتوہ ہے یعنی مخبوط الحواس اور فاتر العقل، جو شریعت کا مکلف نہیں ہے اور وہ مرفوع القلم ہے۔اس کا حوالہ پیر عبدالحفیظ نے دیا ہے۔ظاہر ہے کہ ایک فائر العقل اور مخبوط الحواس ، سلوک کی راہیں طے نہیں کر سکتا۔وہ تو بیچارہ فاتر العقل ہونے کی وجہ سے شریعت کی مبادیات کا بھی مکلف نہیں ہوسکتا۔کجا یہ کہ وہ شریعت کے اعلیٰ تقاضوں کو پورا کر سکے۔لیکن یہ سید عبدالحفیظ کا کمال ہے کہ ایک فانی فی اللہ کو اس شخص کے مقابل پر رکھ رہا ہے جو فاتر العقل اور مخبوط الحواس ہے۔نعوذ باللہ من ذلک سید عبدالحفیظ مور مار کہ سگریٹ کے دھویں میں اپنے خودساختہ اذکار میں ساری رات سر دھن دھن کر اگر مرفوع القلم ہو چکا ہو تو الگ بات ہے مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک صحیح العقل مسلمان سے شریعت ساقط ہو جائے خواہ وہ ایمان اور تقرب الی اللہ کے کسی بھی مقام پر ہو۔تقرب الی اللہ اور فنافی اللہ کے سب سے بلند ترین مقام کنی که قاب قوسین کے بر تر گمان و وہم سے عالی مقام پر پہنچنے والے ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ ہی تھے اور شریعت محمدیہ پر سب سے زیادہ عمل کرنے والے بھی آپ خود ہی تھے۔اللہم صل علی محمد و علی آل محمد۔آپ سے تو شریعت ساقط نہ ہوئی، نہ آپ کے خلفاء سے اور نہ ہی صحابہ سے۔کیا وہ عشق خدا اور عشق ، رسول میں دیوانے نہ تھے؟ پس عبدالحفیظ نے شریعت کی راہ سے فرار اختیار کرنے کے لئے یہ نظریہ پیش کیا ہے۔اس کو اس نظریہ کے مقابل پر رکھیں جو حضرت سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے شیطان نے پیش کیا تھا تو نتیجہ کھل کر سامنے آجائے گا۔کیا شیطان اب یہ کام وہ عبد الحفیظ اور اس کے شاگر دراشد علی سے نہیں لے رہا؟