شیطان کے چیلے — Page 551
547 فرعون یا ہجرت کر کے موسیٰ علیہ السلام؟ یہود ہجرت کر کے عیسی علیہ السلام؟ کفار مکہ یا ہجرت کر کے رسول اللہ علی؟ ضیاء الحق اور ملاں یا ہجرت کر کے مسیح موعود علیہ السلام کے خلیفہ حضرت مرزا طاہر احمد ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ؟ یہاں کوئی اس غلط نہی میں نہ رہے کہ اس جگہ انبیا علیہم السلام کے ساتھ خلیفہ امی کا موازنہ کیاجا ساتھ رہا ہے۔یہاں صرف الہی تقدیروں کی بناء پر ہجرتوں کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ خلافت علی منہاج النبوت کے ساتھ اگر خدا تعالیٰ نے ہجرت مقدر کی تھی تو اس ہجرت نے بھی لازماً انہی برکتوں اور فضلوں سے معمور ہونا تھا جن سے انبیا علیہم السلام کی ہجرتیں معمور ہوئیں۔اس ہجرت کے بعد جس طرح خدا تعالیٰ نے جماعت احمد یہ کو دن دونی رات چوگنی ترقیات عطا فرما ئیں وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس ہجرت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی تائیدات اور نصرتیں بھی علی منہاج النبوت ہیں۔اس کی ایک ادنی سی جھلک برمنگھم (یوکے) سے شائع ہونے والے ماہنامہ ”صراط مستقیم ( غیر احمدیوں کے لئے یہ ” صراط مستقیم اب بند ہے ) کے اداریہ میں 66 زیر عنوان رد قادیانیت پر مشترکہ اقدام کی ضرورت ہے“ کے تحت ملاحظہ فرمائیں۔وہ لکھتا ہے: کیا بات ہے کہ قادیانی صرف ایک سالانہ کا نفرنس کے ذریعہ ہزاروں مسلمانوں اور غیر مسلموں کو اپنے نظم وضبط اور منصوبہ بندی سے متاثر کر لیتے ہیں مگر ان کے مقابلے میں تحفظ ختم نبوت کے تحت منعقد کی جانے والی کا نفرنسیں ابھی تک کسی پر جانبدار مسلمان یا غیر مسلم کو الا ماشاء اللہ متاثر نہیں کرسکیں۔“ اس حقیقت افروز مایوسی کے اظہار کے بعد وہ ایک اور سچائی لکھتا ہے کہ ” اس مسئلے پر ساری دنیا کے مختلف الخیال مسلمانوں کے ایک رائے ہونے کے باوجود کوئی ایسا مشترکہ پلیٹ فارم ترتیب نہیں دیا گیا جس میں کم از کم برطانیہ کی تمام دینی تنظیمات شامل ہوں بلکہ یہاں تو ترقی معکوس نظر آتی ہے۔مجلس تحفظ ختم نبوت بھی اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہے۔“ (صراط مستقیم برمنگھم۔شمارہ 2 جلد 17 اگست ستمبر 1995ء) یہ کس قدر بڑی شکست ہے جس کے ساتھ عبرتناک ریخت بھی ہے جو اس مجلس کو نصیب ہوئی ہے جو