شیطان کے چیلے — Page 540
536 (1) ہے۔جماعت احمدیہ کی ترقی اور اس کے مالی وسائل راشد علی اور اس کے پیر نے شکست کے یقین میں ڈوب کر اور پھر حسد کی آگ میں جل کر لکھا ” 120 زبانوں میں ہفتہ روزہ یاماہانہ مجلے شائع ہوتے ہیں! آخر یہ پیسہ کون فراہم کر رہا ہے؟ ( بے لگام کتاب) مسلم ٹیلیویژن احمدیہ کے نام سے لندن سے روزانہ دنیا بھر میں چار مختلف سیٹلائٹوں کے ذریعے 4 سے 13 زبانوں میں کئی کئی گھنٹوں پر مشتمل پروگرام نشر کئے جاتے ہیں۔اتنا مہنگا پروپیگنڈا تو بڑی بڑی حکومتیں بھی نہیں کرتیں۔آخر ان تمام پروگراموں کے اخراجات کون برداشت کر رہا ہے؟ کوئی بہت ہی احمق ہوگا جو یہ سمجھتا ہو گا کہ یہ سب کام سالانہ چندہ تحریک جدید وغیرہ سے پورے کئے جارہے ہیں! دراصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت احمدیہ کے علاوہ دوسری تنظیمیں مالی استمداد کے لئے کسی نہ کسی جگہ اپنا دست گدائی دراز کرتی ہیں۔اس لئے ان کی کاسہ لیس عقل کی دسترس انفاق فی سبیل اللہ کے اس معیار تک پہنچ ہی نہیں سکتی ، جو صحابہ کے منہاج پر جماعت احمد یہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے قائم ہے۔ان کی پست سوچ یہ سمجھنے سے بہت ہی نیچے رہ جاتی ہے کہ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہنے والے ایسے مومن بھی موجود ہیں جنہوں نے قرونِ اولیٰ کے مومنوں کی طرح اپنے ایمان کو جان، مال ، عزت اور نفس کی قربانیوں کی مضبوط بنیادوں پر قائم کیا ہے۔وہ با قاعدگی کے ساتھ ساری عمر، اپنی آمدنی کا ایک کثیر حصّہ اس کے دین کی خاطر ادا کرتے ہیں۔فی زمانہ جماعت احمد یہ دنیا میں وہ واحد جماعت ہے جس کے کمانے والے افراد جو اب کروڑوں کی تعداد میں ہیں خواہ وہ دنیا کے کسی بھی علاقہ سے تعلق رکھتے ہوں ، قرآنی حکم کے تابع اپنی آمدنی کا ایک مقررہ حصہ خدا تعالیٰ کی راہ میں پیش کرتے ہیں۔ایسی بابرکت دولت سے ہر ملک میں جماعت احمدیہ کے جملہ کام سرانجام پاتے ہیں۔اس کے ساتھ وہ دولت بھی بہت بڑی ہے جو لاکھوں افراد جماعت اپنے وقت اور نفس کا بیشتر حصہ دینی کاموں کے لئے صرف کرنے کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔