شیطان کے چیلے — Page 530
526 ” یہاں ایک اہم نکتہ یادر کھنے کا یہ ہے کہ یہ تمام منازل سلوک سالک کیلئے ہیں اور نبی ورسول سراج السالکین ہوتا ہے نہ کہ سالک۔نبی یا رسول کو نہ تو فنافی الشیخ ہونے کی ضرورت ہے نہ کوئی نبی آج تک کسی دوسرے نبی یا رسول پر فنا ہوا ہے۔قرآن گواہ ہے ، تاریخ انسانی شاہد ہے کہ ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ انبیائے کرام موجود رہے ہیں اور ان میں ایک دوسرے سے افضل بھی تھا مگر کبھی کسی نبی نے کسی دوسرے نبی کا عاشق ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔مثلاً حضرت ابراہیم اور حضرت لوط، حضرت عیسیٰ اور حضرت سکی ، حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون و حضرت خضر ، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف وغیرہ علیہم السلام باوجود ایک ہی زمانے اور علاقے میں ہونے کے ان منازل سلوک سے مبتر ار ہے۔نہ ان میں سے کسی نے عاشق رسول ہونے کا دعوی کیا اور نہ ہی فنافی اللہ کے مقام و منزل سے ان کو گزرنے کی ضرورت تھی۔انبیائے کرام کا عرفان اور ہے اور اولیائے کرام کا اور۔سرکار دو عالم ﷺ کی سیر الی اللہ اور تھی اور اولیاء اللہ کی سیر الی اللہ اور۔سرکار ﷺ کی سیر جسم وروح کے ساتھ ہوتی تھی اور اولیائے کرام کی فقط روح کے ساتھ۔الغرض اولیائے کرام کا اعلیٰ ترین درجہ بھی انبیائے کرام کے ادنی درجے کو نہیں پہنچ سکتا کیونکہ یہ مقام کسی نہیں وہی ہے۔“ الفتوی نمبر 23 جنوری 2000ء) سید عبد الحفیظ کے اس سارے بیان اور خشک فلسفہ کالب لباب یہ ہے کہ نبی سالک نہیں ہوتا۔حالانکہ اسلام کی تعلیم میں عملاً خود عقلمندی سے سوچ کر اللہ تعالیٰ اور رسول کی راہ اختیار کرنا سلوک کہلاتا ہے۔ہر اہل اللہ خواہ وہ غوث ہو، قطب ہو، ابدال ہو، ولی اللہ ہو یا نبی اللہ ، خدا تعالیٰ کی طرف اس کا سفر جاری ہی رہتا ہے۔اسی سفر کو سلوک کہتے ہیں اور یہ سفر کرنے والا سالک ہوتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے اس سفر کا ایک مرحلہ یہ بھی بیان فرمایا: إِنِّي ذَاهِبٌ إِلَى رَبِّي سَيَهْدِيْنِ (الصافات: 100) کہ میں اپنے رب کی طرف جاؤں گاوہ مجھے ہدایت کی راہ پر چلائے گا ہمارے آقا ومولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ اپنے مقام ،مرتبہ ،کمال اور عروج کے لحاظ سے تمام انبیاء علیہم السلام میں سب سے بڑے نبی تھے لیکن پھر بھی آپ اسی سفر کے لئے ہمیشہ سلوک کی راہوں پر رواں دواں رہے۔آپ اس مقام پر بھی فائز تھے جہاں بشریت کا مقام ختم ہو جاتا ہے اور الوہیت کے مقام کی حدود شروع ہو جاتی ہیں مگر پھر بھی آپ استغفار کرتے اور دن میں بیسیوں مرتبہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیم کی دعا مانگتے تھے۔خدا تعالیٰ نے آپ کے اسی سفر کا نقشہ یوں کھینچا ہے وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الأولى (الضحى :5) کہ تیرا ہر آنے والا لمحہ پہلے گذرے ہوئے لمحہ سے بہتر ہے۔یہ ہیں سلوک کی راہیں