شیطان کے چیلے — Page 529
525 بعد از خدا بعشق محمد مخمرم گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم کہ خدا تعالیٰ کے بعد میں محمد علیہ کے عشق میں مخمور ہوں اور اگر یہ کفر ہے تو خدا کی قسم میں سخت ” کا فر“ ہوں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہی تو کفر ہے جس پر راشد علی اور اس کے پیر کو سخت تکلیف ہے لیکن ہم تو اس کفر پر ناز کرتے ہیں کیونکہ وو یہ وہ ہے خوشبو کہ قرباں جس پہ ہو مشک تتار یوں تو یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کفر ثابت کر رہا ہے مگر اس کو اتنی بھی شرم نہیں آئی کہ وہ خود تو منشی در گا سہائے سرور جہاں آبادی را نا بھگون داس ، جگن ناتھ آزاد، کبیر داس، سرکشن پرشادشاد اور پنڈت کیفی وغیرہ وغیرہ ، غیر مسلموں جیسا کام بھی نہیں کر سکا۔اس نے اپنا بڑھاپا ایک عاشق رسول کے خلاف جھوٹ پر جھوٹ بولنے میں ، اس کی تحریروں میں اور معنوں میں تحریف کرنے میں اور غریب ماہی گیروں کی زمینوں پر غاصبانہ قبضہ کرنے میں بھسم کر ڈالا لیکن اس میدانِ عشق محمد میں قدم رکھنا نصیب نہ ہوا۔لکیروں کے فقیر بلکہ پیر بن کر عشق و محبت کا گھسا پٹا فلسفہ بکھیرنے سے تو یہ بہتر تھا کہ کم از کم پنڈت کیفی دہلوی، سرکشن پر شادشاد اور منشی درگا سہائے سرور وغیر ہم کی صف میں کھڑا ہو کر ہی نعت رسول کا کچھ مظاہرہ کر دیتا۔لیکن اس کے نصیب میں یہ سعادت بھی نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : مجھ پہ اے واعظ نظر کی یار نے ، پر تجھ پر نہ کی حیف اس ایماں پہ جس جس سے (2) کفر بہتر لاکھ بار نبی و رسول سالک نہیں ہوتے راشد علی کا پیر عبدالحفیظ ” کیا نبی بھی سالک ہوتا ہے؟“ کے عنوان کے تحت لکھتا ہے۔