شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 528 of 670

شیطان کے چیلے — Page 528

524 (سرکشن پرشادشاد ) ہو شوق : کیوں نعت رسول دوسرا کا مضمون ہو عیاں دل میں لولاک جو ہے جان علاج سرا شافع محشر کا کیفی مجھے اب خوف ہے کیا روز جزا کا ( پنڈت کیفی دہلوی) آپ یقینا مجھ سے اتفاق کریں گے کہ شعراء نے ان اشعار میں بڑی خوبصورتی کے ساتھ سرکار دو عالم ہے سے اپنی عشق کا اظہار کیا ہے۔سوال یہ ہے کہ اشعار میں اس طرح کا اظہار خیال کس چیز کی دلیل ہے؟ آپ کو یہ سن کر تعجب ہو گا کہ یہ تمام اشعار ان شعراء کے ہیں جو غیر مسلم ہی تھے اور اسی پہ انکا خاتمہ ہوا۔ان شعراء میں منشی درگا سہائے سرور جہاں آبادی ، رانا بھگوان داس ، جگن ناتھ آزاد ، کبیر داس وغیرہ شامل ہیں۔ان کے یہ عشق میں ڈوبے ہوئے اشعار ان کو راہ ہدایت تک نہ دکھلا سکے۔اپنی اس الٹی منطق سے سید عبدالحفیظ نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ کسی کا آنحضرت علی سے عشق و فدائیت کا اظہار کوئی حیثیت نہیں رکھتا کیونکہ یہ کام تو غیر مسلم بھی کر لیتے ہیں۔اس لئے اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذرہ ذرہ اپنے پیارے محبوب نبی ﷺ کے عشق میں سرشار تھا تو یہ انہیں مسلماں نہیں بنا سکتا۔الفتوى نمبر 23 جنوری 2000ء) ماشاء اللہ! کافی بڑا دماغ پایا ہے۔ہم اس تفصیل میں نہیں جاتے کہ اس پیر کی الٹی منطق کی زد میں کون کون سی بزرگ ہستیاں بھی آتی ہیں۔لیکن وہ بحث جس میں یہ صاحب الجھ چکے ہیں۔وہ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پہلے ہی ختم کر دی تھی۔آپ کو اپنے محبوب و مطاع آقا حضرت محمد مصطفی ﷺ کی عظمت شان اور ارفع ذات کے عرفان کا وہ مقام حاصل تھا کہ فرمایا: اس قدر عرفاں آنکھ میں اس کی بڑھا میرا که کافر ہو گیا ہے وہ دور تر از اسی وجہ سے آپ کو یہ کفر محبوب تھا اور آپ کو اس پر فخر تھا۔آپ فرماتے ہیں: سید عبد الحفیظ نے حضرت گرد باوانا تک کا نام بھی غیر مسلموں میں شامل کیا ہے حالانکہ وہ مسلمان تھے۔صحن یار